ملفوظات (جلد 6) — Page 366
۲۰۸ کیونکہ عشق اور مشک کو چھپایا نہیں جاسکتا۔۲۰۹ اگر وزیر خدا سے اس طرح ڈرتا جیسے بادشاہ سے ڈرتا ہے تو فرشتہ بن جاتا۔۲۱۷ یہ دنیا کا جنگل درندوں اور پھندوں سے خالی نہیں بارگاہِ الٰہی کی تنہائی کے سوا کہیں امن نہیں۔۲۲۰ ہاتھ کام میں اور دل یار میں لگا ہونا چاہیے۔۲۳۶ ہم اس عالی بارگاہ تک نہیں پہنچ سکتے سوائے اس کے کہ تُو خود مہربانی سے چند قدم آگے بڑھ آئے۔۲۴۰ خدا جانتے ہوئے بھی پردہ پوشی کرتا ہے ہمسایہ نہیں جانتا اور غُل مچاتا ہے۔۲۴۲ سینکڑوں حسین میرے گریبان کے اندر ہے۔۲۵۱ میں تُو بن گیا تُو میں بن گیا میں تن بنا تُو جان بن گیا۔تا بعد میں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ میں کوئی اور ہوں اور تُو کوئی اور ہے۔۲۵۴ میں بار بار نباتات اور ہریاؤں کی شکل میں اُگا ہوں میں سات سو ستّر یعنی بے شمار سانچوں سے گزرا ہوں۔۲۵۶ ہر شخص کو کسی نہ کسی کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔۲۵۶ کیا تُو نے زمینی کاموں کو درست کر لیا ہے، کہ آسمانی کاموں کی طرف بھی متوجہ ہو گیا ہے۔۲۷۸ جو زیادہ واقف ہو وہی زیادہ ڈرتا ہے۔۲۸۱ شروع میں عشق بہت منہ زور اور خونخوار ہوتا ہے تا وہ شخص جو صرف تماشائی ہے بھا گ جائے۔