ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 361 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 361

منع نہیں کرتا کہ اختلاف مذہب بیان نہ کرو۔بیشک نیک نیتی سے اختلاف بیان کرو۔مگر اس میں تعصّب اور کینہ کا رنگ نہ ہو۔ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلقات دو چار سال سے نہیں بلکہ صدہا سال سے چلے آتے ہیں۔اس لیے خدا کرے کہ بہت سے دلوں میں جوش ڈال دے کہ جو ان تعلقات کو دُور نہ ہونے دیں۔یہ بھی یاد رکھو کہ مذہب صرف قیل و قال کا نام نہیں بلکہ جب تک عملی حالت نہ ہو کچھ نہیں۔خدا اس کو پسند نہیں کرتا۔جس قدر بزرگ اسلام میں یا ہندوؤں میں اوتار وغیرہ گذرے ہیں ان کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے عمل سے ان سچائیوں کو جن کا وہ وعظ کرتے تھے ثابت کر دکھایا ہے۔قرآن شریف میں بھی یہی تعلیم ہے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ (المآئدۃ:۱۰۶) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اپنے آپ کو درست کرو۔جس شخص کے اندر خود روشنی اور نور نہیں ہے وہ اگر زبان سے کام لے گا تو وہ مذہب کو بچوں کا کھیل بنا دے گا اور حقیقت میں ایسے ہی مصلحوں سے ملک کو نقصان پہنچا ہے۔ان کی زبان پر تو منطق اور فلسفہ جاری رہتا ہے مگر اندر خالی ہوتا ہے۔مصلح کی صفات خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نہایت خیر خواہی سے کہہ رہا ہوں خواہ کوئی میری باتوں کو نیک ظنّی سے سنے یا بد ظنّی سے مگر میںکہوں گا کہ جو شخص مصلح بننا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ پہلے خود روشن ہو اور اپنی اصلاح کرے۔دیکھو یہ سورج جو روشن ہے پہلے اس نے خود روشنی حاصل کی ہے۔میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ ہر ایک قوم کے معلّم نے یہی تعلیم دی ہے لیکن اب دوسرے پر لاٹھی مارنا آسان ہے لیکن اپنی قربانی دینا مشکل ہوگیا ہے۔پس جو چاہتا ہے کہ قوم کی اصلاح کرے اور خیر خواہی کرے وہ اس کو اپنی اصلاح سے شروع کرے۔قدیم زمانہ کے رِشی اور اَوتار جنگلوں اور بنوں میں جا کر اپنی اصلاح کیوں کرتے تھے وہ آجکل کے لیکچراروں کی طرح زبان نہ کھولتے تھے جب تک خود عمل نہ کر لیتے تھے۔یہی خدا تعالیٰ کے قُرب اور محبت کی راہ ہے۔جو شخص دل میں کچھ نہیں رکھتا اس کا بیان کرنا پرنالہ کے پانی کی طرح ہے جو جھگڑے پیدا کرتا ہے اور جو نورِ معرفت اور عمل سے بھر کر بولتا ہے وہ بارش کی طرح ہے جو رحمت سمجھی