ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 362 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 362

جاتی ہے۔اس وقت میری نصیحت یاد رکھیں آج کے بعد آپ مجھے یہاں نہ دیکھیں گے اور میں نہیں جانتا کہ پھر موقع ہو یا نہ ہو لیکن ان تفرقوں کو مٹانے کی کوشش کرو۔میری نسبت خواہ آپ کا کچھ ہی خیال ہولیکن یہ سمجھ کر کہ ؎ مرد باید کہ گیرد اندر گوش در نوشت است پند بر دیوار میری نصیحت پر عمل کرو جو شخص خود زہر کھا چکا ہے وہ دوسروں کی زہر کا کیا علاج کرے گا۔اگرعلاج کرتا ہے تو خود بھی مَرے گا اور دوسروں کو بھی ہلاک کرے گا کیونکہ زہر اس میں اثر کر چکا ہے اور اس کے حواس چونکہ قائم نہیں رہے اس لیے اس کا علاج بجائے مفید ہونے کے مضر ہوگا۔غرض جس قدر تفرقہ بڑھتا جاتا ہے اس کا باعث وہی لوگ ہیں جنہوںنے زبانوں کو تیز کرنا ہی سیکھا ہے۔دوسرے مذاہب کی حیثیت یہ بھی یاد رکھو کہ میرا یہ مذہب نہیںکہ اسلام کے سوا سب مذاہب بالکل جھوٹےہیں۔میںیہ یقین رکھتا ہوںکہ وہ خدا جو تمام مخلوق کا خدا ہے وہ سب پر نظر رکھتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ وہ ایک ہی قوم کی پروا کرے اور دوسروں پر نظر نہ کرے۔ہاں یہ سچ کہ حاکم کے دَورے کی طرح کبھی کسی قوم پر وہ وقت آجاتا ہے اور کبھی کسی پر۔میں کسی کے لیے نہیں کہتا۔خدا تعالیٰ نے مجھ پر ایسا ہی ظاہر کیا ہے کہ راجہ رامچندر اور کرشن جی وغیرہ بھی خدا کے راستباز بندے تھے اور اس سے سچا تعلق رکھتے تھے۔میں اس شخص سے بیزار ہوں جو ان کی نِندیا یا توہین کرتا ہے۔اس کی مثال کنوئیںکے مینڈک کی سی ہے جو سمندر کی وسعت سے ناواقف ہے۔جہاں تک ان لوگوں کے صحیح سوانح معلوم ہوتے ہیں اس سے پایا جاتا ہے کہ ان لوگوں نے خدا کی راہ میں مجاہدات کیے اور کوشش کی کہ اسی راہ کو پائیں جو خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی حقیقی راہ ہے۔پس جس شخص کا یہ مذہب ہو کہ وہ راستباز نہ تھے وہ قرآن شریف کے خلاف کہتا ہے کیونکہ اس میں فرمایا ہے اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ(فاطر:۲۵) یعنی کوئی قوم اور اُمّت ایسی نہیں گذری جس میں کوئی نذیر نہ آیا ہو۔میں بابا نانک صاحب کو بھی خدا پرست سمجھتا ہوں اور کبھی پسند نہیںکرتا کہ ان کو بُرا کہا جائے۔میں ان کو ان لوگوں میں سے سمجھتا ہوں جن کے دل میں