ملفوظات (جلد 6) — Page 360
امید دلائی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرے تو یہ میل جول ترقی کرے گا۔میں خوب جانتا ہوں کہ جب تک طبیعت میں یہ استعداد نہیں ہوتی کہ کوئی شخص صبر اور خوش خُلقی سے ایک مخالف رائے کو سن سکے وہ ایسی رائے کو سن کر چپ نہیں رہ سکتا۔اسی لیے یہ خاموشی اور صبر مجھے امید دلاتا ہے کہ اچھے نتیجے پیدا ہوں گے۔یہ بھی خوبی کی بات ہے کہ جب مخالف رائے کو سنے تو فوراً جواب دینے کو تیار نہ ہوجائے کیونکہ یہ تو محض ہار جیت کی خواہش ہوگی لیکن اس رائے کے صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لیے اس پر صبر سے فکر کرنا چاہیے۔اس سے علم و حکمت پیدا ہوتی ہے اور علم و حکمت ایک ایسا خزانہ ہے جو تمام دولتوں سے اشرف ہے۔دنیا کی تمام دولتوں کو فنا ہے لیکن علم و حکمت کو فنا نہیں ہے۔پس جو جلدی نہیں کرتا بلکہ فکر کرتا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ اے اللہ اگر میں غلطی پر ہوں تو مجھے بصیرت اورمعرفت عطا کر وہ اس حکمت کے خزانہ کو محفوظ رکھتا ہے۔پس میں چاہتا ہوں کہ آپ صاحبان اس خزانہ کے حاصل کرنے اور محفوظ رکھنے کی کوشش کریں۔میں آپ صاحبوں کی خدمت میں ادب، عجز اور تواضع سے عرض کرتا ہوں کہ یہ جو کچھ سنایا گیا ہے آپ اس پر توجہ کریں تاکہ میری محنت ضائع نہ ہو۔جو کچھ میری قلم سے نکلا ہے اور میرے دوست مولوی عبد الکریم صاحب نے پڑھا ہے میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کسی کی دل آزاری یا استخفافِ مذہب کی نیت سے نہیں لکھا بلکہ خدا گواہ ہے اور اس سے بہتر کون گواہ ہوسکتا ہے کہ میں نے سچے دل سے لکھا ہے اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لیے لکھا ہے اور میں جانتا ہوں۔ع سخن کز دل برون آید نشیند لاجرم بر دل چونکہ فرصت بہت کم ہے۔ممکن ہے کہ بعض نے نہ سنا ہو اس لیے ہم نے چھپوا دیا ہے اور بشرط گنجائش مل سکتا ہے۔پس اس کو پڑھ کر توجہ کریں اور مذہبی مخالفت کو عام مخالفت کا ذریعہ نہ بناویں۔مذہب تو اس لیے ہوتا ہے کہ اخلاق وسیع ہوں جیسے خدا کے اخلاق وسیع ہیں۔کوئی ہزاروں گالیاں اسے دے وہ اس پر پتھر نہیں برسا دیتا۔پس اسی طرح حقیقی مذہب والا تنگ ظرف نہیں ہو سکتا۔تنگ ظرف خواہ ہندو ہو یا مسلمان یا عیسائی وہ دوسرے بزرگوں کو بھی بدنام کرتا ہے۔میں اس سے