ملفوظات (جلد 6) — Page 359
اپنی جگہ پر جاکر سوچو!!!۱ ۳؍ستمبر۱۹۰۴ء (بمقام لاہور) مذہبی رواداری کی تعریف حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تیسری تقریر جوحضور نے بارہ ہزار سے زائد آدمیوں کے مجمع میں حاضرین کی بےحد خواہش سے کی۔(ایڈیٹر) میں آپ سب صاحبوں کا شکر کرتا ہوں کہ آپ نے نہایت صبر اور خاموشی کے ساتھ میرے لیکچر کو سنا۔میں ایک مسافر آدمی ہوں اور کل صبح انشاء اللہ چلا جاؤں گا۔لیکن میں اس شکر اور خوشی کو ساتھ لے جاؤں گا اور یاد رکھوں گا کہ باوجود اختلاف رائے کے ( کہ جس کی وجہ سے عموماً جوش پیدا ہوجاتا ہے) آپ نے نیکی اور نیک اخلاقی اور آہستگی سے میرے مضمون کو سنا۔میں یہ جانتا ہوں اور خودمحسوس کرتا ہوں کہ مدّت کے خیالات کو چھوڑنا سہل اور آسان نہیں ہوتا خواہ وہ کتنے ہی غلط کیوں نہ ہوں۔یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے کہ انسان اپنے اندر علمی یا عملی تبدیلی کر سکے لیکن جو اخلاق آپ نے دکھائے ہیں وہ نہایت ہی قابل تعریف ہیں اور میں دعا کرتا ہوں کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے عام طور پر یہ اجتماعی رنگ دکھایا ہے وہ ایسا وقت اور زمانہ بھی لاوے کہ دلوں میں بھی اتحاد اور اجتماع ہو۔اس ملک کو تفرقہ نے بہت نقصان پہنچایا ہے۔ایک زمانہ تھا کہ اس ملک کے ہندوؤں اور مسلمانوں میں بہت بڑا اتحاد اور اتفاق تھا اور باوجود اختلاف مذاہب بھی ان میں قابلِ قدر میل ملاپ تھا مگر اس زمانہ میں فرق آگیا اور خدا کرے کہ یہ دور ہو جائے۔یاد رکھو کہ یہ تنگ دلی اور تنگ ظرفی کا نشان ہے کہ انسان اختلاف شریعت و مذہب کی وجہ سے اخلاق کو بھی چھوڑ دے۔اختلافِ رائے اَور چیز ہے اور اخلاق اَور۔یہ انسانی اخلاق کی خوبی اور کمال ہے کہ باوجود اختلاف رائے کے اخلاقی کمزوری نہ دکھائے۔آج کے جلسہ نے مجھے ایک تازہ