ملفوظات (جلد 6) — Page 356
درخت سے بڑھ کر تو شاخ نہیں ہوتی۔تم دیکھو کہ یہ کب تک گالیاں دیں گے۔آخر یہی تھک کر رہ جائیں گے۔ان کی گالیاں ان کی شرارتیں اور منصوبے مجھے ہرگز نہیں تھکا سکتے۔اگر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا تو بیشک میں ان کی گالیوں سے ڈر جاتا لیکن میں یقیناً جانتا ہوں کہ مجھے خدا نے مامور کیا ہے پھر میں ایسی خفیف باتوں کی کیا پروا کروں۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔تم خود غور کرو کہ ان کی گالیوں نے کس کو نقصان پہنچایا ہے ان کو یا مجھے؟ ان کی جماعت گھٹی ہے اور میری بڑھی ہے۔اگر یہ گالیاں کوئی روک پیدا کر سکتی ہیں تو دو لاکھ سے زیادہ جماعت کس طرح پیدا ہوگئی۔یہ لوگ ان میں سے ہی آئے ہیں یا کہیں اَور سے؟ انہوںنے مجھ پر کفر کے فتوے لگائے لیکن اس فتویٰ کفر کی کیا تاثیر ہوئی؟ جماعت بڑھی اگر یہ سلسلہ منصوبہ بازی سے چلایا گیا ہوتا تو ضرور تھا کہ اس فتویٰ کا اثر ہوتا اور میری راہ میں وہ فتویٰ کفر بڑی بھاری روک پیدا کر دیتا۔لیکن جو بات خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو انسان کا مقدور نہیں ہے کہ اسے پامال کرسکے۔جو کچھ منصوبے میرے مخالف کئے جاتے ہیں پہچان کرنے والوں کو حسرت ہی ہوتی ہے۔میں کھول کر کہتا ہوں کہ یہ لوگ جو میری مخالفت کرتے ہیں ایک عظیم الشان دریا کے سامنے جو اپنے پورے زور سے آرہا ہے اپنا ہاتھ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ اس سے رک جاوے مگر اس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ وہ رک نہیں سکتا۔یہ ان گالیوں سے روکنا چاہتےہیں مگر یاد رکھیںکہ کبھی نہیں رکے گا۔کیا شریف آدمیوں کا کام ہے کہ گالیاں دے۔میں ان مسلمانوں پر افسوس کرتا ہوں کہ یہ کس قسم کے مسلمان ہیں جو ایسی بیباکی سے زبان کھولتےہیں۔میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ایسی گندی گالیاں میں نے تو کبھی کسی چوڑھے چمار سے بھی نہیں سنی ہیں جو ان مسلمان کہلانے والوں سے سنی ہیں۔ان گالیوں میں یہ لوگ اپنی حالت کا اظہار کرتے ہیں اور اعتراض۱ کرتے ہیں کہ وہ فاسق و فاجر ہیں۔خدا تعالیٰ ان کی آنکھیں کھولے اور ان پر رحم کرے۔(آمین) ایسے گالیاں دینے والے خواہ ایک کروڑ ہوں خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔یہ جانتے ہیں کہ ایک