ملفوظات (جلد 6) — Page 357
پیسہ کا کارڈ ہی ضائع ہوگا مگر نہیں جانتے کہ اس پیسہ کے نقصان کے ساتھ نامہ اعمال بھی سیاہ ہوجائے گا۔پھر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ گالیاں دی کیوں جاتی ہیں۔کیا صرف اس لیے کہ میں کہتا ہوں قرآن شریف کو نہ چھوڑو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب نہ کرو۔غضب کی بات ہے کہ قرآن شریف میں لکھا ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے اور پھر زمین پر نہیں آئیں گے مگر یہ ماننے میںنہیں آتے اور اس عقیدۂ مخالفت قرآن شریف پر اَڑتے ہیں۔اگر میں نہ آیا ہوتا اور خدا تعالیٰ نے ایک سلسلہ قائم نہ کیا ہوتا تو یہ جو کچھ چاہتے کہتے کیونکہ ان کو بیدار کرنے والا اور آگاہ کرنے والا ان میںموجود نہ تھا۔لیکن اب جب کہ خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے اور میں وہی ہوں جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حَکم قرار دیا ہے تو پھر میرے فیصلہ پر چُون و چَرا کرنا ان کا حق نہیں تھا۔طریق تقویٰ تو یہ تھا کہ میری باتوں کو سنتے اور غور کرتے انکار کے لیے جلدی نہ کرتے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میرے آنے کے بعد ان کا حق نہیں ہے کہ یہ زبان کھولیں کیونکہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور حَکم ہو کر آیا ہوں۔۱ ابھی بہت زمانہ نہیں گذرا کہ مقلّد غیر مقلّدوں کی غلطیاں نکالتے اور وہ ان کی غلطیاں ظاہر کرتے اور اس طرح پر دوسرے فرقے آپس میں درندوں کی طرح لڑتے جھگڑتے تھے۔ایک دوسرے کو کافر کہتے اور نجس بتاتے تھے۔اگر کوئی تسلّی کی راہ موجود تھی تو پھر اس قدر اختلاف اور تفرقہ ایک ہی قوم میں کیوں تھا؟ غلطیاں واقع ہو چکی تھیں اور لوگ حقیقت کی راہ سے دور جا پڑے تھے۔ایسے اختلاف کے وقت ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ خود فیصلہ کرتا چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور ایک حَکم ان میںبھیج دیا۔اب بتاؤ کہ میں نے کیا زیادتی کی ہے یا کیا قرآن شریف سے کم کر دیا ہے جو میری مخالفت کے لیے اس قدر جوش پیدا ہوا ہوا ہے۔۱ اس مقام پر پہنچ کر حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آواز اور تقریر میں ایک خاص جلال اور شوکت تھی جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، آپؐکی عظمت جو آپ کے دل میں ہے معلوم ہوتی تھی۔تقریر میں غیر معمولی زور تھا اور وہ پُر زور دریا کی طرح بہہ رہی تھی۔پورے طور پر ہم قادر نہیںہو سکے کہ اس حصّہ کو قلمبند کر سکیں تاہم جس قدر کوشش اور سعی سے ہوسکا قلمبند کیا ہے۔(ایڈیٹر الحکم)