ملفوظات (جلد 6) — Page 354
سنو اصل حقیقت یہی ہے اور سچا فیصلہ وہی ہے جو حضرت مسیحؑنے کر دیا تھا۔اس سے منہ پھیرنا اچھا نہیں ہے۔فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(الانبیآء:۸) غرض انبیاء علیہم السلام کو اپنی تبلیغ کی راہ میں بہت سی مشکلات ہوتی ہیں اور ان کے مصائب میں سے یہ بھی بڑی مصیبت ہے کہ جس قدر دیر نبی کی کامیابی میں ہوگی اسی قدر ھمّ و غم اس کا پڑے گا۔میں ان مشکلات سے الگ نہیں ہو سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو بھی منہاجِ نبوت پر قائم کیا ہے۔جماعت میں شامل ہونے والوں کے لیے نصائح ہماری جماعت کے لیے بھی اسی قسم کے مشکلات ہیں جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت مسلمانوں کو پیش آتے تھے۔چنانچہ نئی اور سب سے پہلی مصیبت تو یہی ہے کہ جب کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہوتا ہے تو معاً دوست، رشتہ دار اور برادری الگ ہوجاتی ہے یہاں تک کہ بعض اوقات ماں باپ اور بھائی بہن بھی دشمن ہوجاتے ہیں۔السلام علیکم تک کے روادار نہیں رہتے اور جنازہ پڑھنا نہیں چاہتے۔اس قسم کی بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔میں جانتا ہوں کہ بعض کمزور طبیعت کے آدمی بھی ہوتے ہیں اور ایسی مشکلات پر وہ گھبرا جاتے ہیں لیکن یاد رکھو کہ اس قسم کی مشکلات کا آنا ضروری ہے۔تم انبیاء و رسل سے زیادہ نہیں ہو۔ان پر اس قسم کی مشکلات اور مصائب آئیں اور یہ اسی لیے آتی ہیں کہ خدا تعالیٰ پر ایمان قوی ہو اور پاک تبدیلی کا موقع ملے۔دعاؤں میں لگے رہو۔پس یہ ضروری ہے کہ تم انبیاء و رُسل کی پیروی کرو اور صبر کے طریق کو اختیار کرو۔تمہارا کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا۔وہ دوست جو تمہیں قبولِ حق کی وجہ سے چھوڑتا ہے وہ سچا دوست نہیں ہے۔ورنہ چاہیے تھا کہ تمہارے ساتھ ہوتا۔تمہیں چاہیے کہ وہ لوگ جو محض اس وجہ سے تمہیں چھوڑتے اور تم سے الگ ہوتے ہیں کہ تم نے خد اتعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے ان سے دنگہ یا فساد مت کرو بلکہ ان کے لیے غائبانہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی وہ بصیرت اور معرفت عطا کرے جو اس نے اپنے فضل سے تمہیں دی ہے۔تم