ملفوظات (جلد 6) — Page 349
لے کر آئے تھے اس کے پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ان تکلیفوں اور ایذا رسانیوں نے جو نادان دنیا داروں کی طرف سے پہنچیں ان کو سست نہیں کیا بلکہ وہ اور تیز قدم ہوتے یہاں تک کہ وہ زمانہ آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے وہ مشکلات ان پر آسان کر دیں اور مخالفوں کو سمجھ آنے لگی اور پھر وہی مخالف دنیا ان کے قدموں پر آگری اور ان کی راست بازی اور سچائی کا اعتراف ہونے لگا۔دل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں وہ جب چاہتا ہے بدل دیتا ہے۔تبلیغ کی مشکلات یقیناً یاد رکھو تمام انبیاء کو اپنی تبلیغ میں مشکلات آئی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو سب انبیاء علیہم السلام سے افضل اور بہتر تھے یہاں تک کہ آپ پرسلسلہ نبوت اللہ تعالیٰ نے ختم کر دیا یعنی تمام کمالاتِ نبوت آپ پر طبعی طور پر ختم ہوگئے۔باوجود ایسے جلیل الشان نبی ہونے کے کون نہیں جانتا کہ آپؐکو تبلیغ رسالت میں کس قدر مشکلات اور تکالیف پیش آئیں اور کفار نے کس حد تک آپؐکو ستایا اور دکھ دیا۔اس مخالفت میں اپنی ہی قوم اور چچا اور دوسرے بزرگ سب سے بڑھ کر حصّہ لینے والے تھے۔آپؐکی مصیبتوں اور تکلیفوں کا زمانہ اتنا لمبا ہوا کہ تیرہ برس تک اپنی قوم سے ہر قسم کے دکھ اٹھاتے رہے۔اس حالت میں کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ شخص کامیاب ہوگا کیونکہ ہر طرف مخالفت کا بازار گرم تھا اور خود اپنے رشتہ دار ہی تشنہ خون ہو رہے تھے۔جدّی اور برادری کے لوگوں نے جب قبول نہ کیا تو اَوروں کو اور بھی مشکلات پیش آگئے۔غرض اس طرح پر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مصیبتوں کا زمانہ دراز ہوگیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس قسم کے مشکلات پیش نہیں آئے کیونکہ حضرت موسٰی کی قوم بنی اسرائیل نے ان کو فوراً قبول کر لیا تھا اس لیے قوم کی طرف سے کوئی دکھ اورمصیبت یا روک ان کو پیش نہیں آئی لیکن برخلاف اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ہی قوم سے مشکلات اور انکار کا مرحلہ پیش آیا۔پھر ایسی صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابیاں کیسی اعلیٰ درجہ کی ثابت ہوئی ہیں جو آپ کے کمالات اور فضائل کا سب سے بڑھ کر ثبوت ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اللہ تعالیٰ کے اِذن و اَمر سے تبلیغ شروع کی تو پہلے ہی آپؐکو یہ مرحلہ پیش آیا کہ قوم نے انکار