ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 346

آستانہ الوہیت کی طرف بہہ نکلے یا جس طرح پر کوئی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اور وہ دوسرے لوگوں کو اپنی مدد کے لیے پکارتا ہے تو دیکھتے ہو کہ اس کی پکار میں کیسا انقلاب اور تغیر ہوتا ہے۔اس کی آواز ہی میں وہ درد بھرا ہوا ہوتا ہے جو دوسروں کے رحم کو جذب کرتا ہے۔اسی طرح وہ دعا جو اللہ تعالیٰ سے کی جاوے اس کی آواز ، اس کا لب و لہجہ بھی اور ہی ہوتا ہے۔اس میں وہ رقّت اور درد ہوتا ہے جو الوہیت کے چشمہ رحم کو جوش میں لاتا ہے۔اس دعا کے وقت آواز ایسی ہو کہ سارے اعضا اس سے متأثر ہو جاویں اور زبان میں خشوع خضوع ہو۔دل میں درد اور رقّت ہو۔اعضا میں انکسار اور رجوع اِلَی اللہ ہو اور پھر سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم پر کامل ایمان اور پوری امید ہو۔اس کی قدرتوں پر ایمان ہو۔ایسی حالت میں جب آستانہ الوہیت پر گرے گا نامُراد واپس نہ ہوگا۔چاہیے کہ اس حالت میں بار بار حضورِ الٰہی میں عرض کرے کہ میں گنہگار اور کمزور ہوں تیری دستگیری اور فضل کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا تُو آپ رحم فرما اور مجھے گناہوں سے پاک کر کیونکہ تیرے فضل و کرم کے سوا کوئی اور نہیں ہے جو مجھے پاک کرے۔جب اس قسم کی دعا میں مداومت کرے گا اور استقلال اور صبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور تائید کا طالب رہے گا تو کسی نا معلوم وقت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نُور اور سکینت اس کے دل پر نازل ہوگی جو دل سے گناہ کی تاریکی دور کرے گی اور غیب سے ایک قوت عطا ہوگی جو گناہ سے بیزاری پیدا کر دے گی اور وہ ان سے بچے گا۔اس حالت میں دیکھے گا کہ میرا دل جذبات اور نفسانی خواہشوں کا ایسا اسیر اور گرفتار تھا کہ گویا ہزاروں ہزار زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا جو بے اختیار اسے کھینچ کر گناہ کی طرف لے جاتے تھے اور یا یک دفعہ وہ سب زنجیر ٹوٹ گئے ہیں اور آزاد ہوگیا ہے اور جیسے پہلی حالت میں گناہ کی طرف ایک رغبت اور رجوع تھا اس حالت میں وہ محسوس اور مشاہدہ کرے گا کہ وہی رغبت اور رجوع اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔گناہ سے محبت کی بجائے نفرت اور اللہ تعالیٰ سے وحشت اور نفرت کی بجائے محبت اور کشش پیدا ہوگی۔یہ ایک زبردست صداقت ہے جو اسلام میں موجود ہے اس کا انکار ہرگز نہیں ہو سکتا اس لیے کہ اس کا زندہ ثبوت ہر زمانہ میں موجود رہتا ہے۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں