ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 345

ذریعہ ہی یہی دعا ہے۔یہی دعا اس کے لیے پناہ ہے اگر وہ ہر وقت اس میں لگا رہے۔قرآنی نصائح کا مغز یہ بھی یقیناً سمجھو کہ یہ ہتھیار اور نعمت صرف اسلام ہی میں دی گئی ہے۔دوسرے مذاہب اس عطیہ سے محروم ہیں۔آریہ لوگ بھلا کیوں دعا کریں گے جبکہ ان کا یہ اعتقاد ہے کہ تناسخ کے چکر میں سے ہم نکل ہی نہیں سکتے ہیں اور کسی گناہ کی معافی کی کوئی امید ہی نہیں ہے۔ان کو دعا کی کیا حاجت اور کیا ضرورت اور اس سے کیا فائدہ؟ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آریہ مذہب میں دعا ایک بے فائدہ چیز ہے اور پھر عیسائی دعا کیوں کریں گے جبکہ وہ جانتے ہیں کہ دوبارہ کوئی گناہ بخشا نہیں جائے گا کیونکہ مسیح دوبارہ تو مصلوب ہو ہی نہیں سکتا۔پس یہ خاص اکرام اسلام کے لیے ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ اُمّت مرحومہ ہے لیکن اگر آپ ہی اس فضل سے محروم ہو جاویں اور خود ہی اس دروازہ کو بند کر دیں تو پھر کس کا گناہ ہے؟ جب ایک حیات بخش چشمہ موجود ہے اور ہر وقت اس میں سے پانی پی سکتا ہے پھر اگر کوئی اس سے سیراب نہیں ہوتا ہے تو خود طالب موت اور تشنہ ہلاکت ہے۔اس صورت میں تو چاہیے کہ اس پر منہ رکھ دے اور خوب سیراب ہو کر پانی پی لیوے۔یہ میری نصیحت ہے جس کو میں ساری نصائح قرآنی کا مغز سمجھتا ہوں۔قرآن شریف کے تیس۳۰ سپارے ہیں اور وہ سب کے سب نصائح سے لبریز ہیں۔لیکن ہر شخص نہیں جانتا کہ ان میں سے وہ نصیحت کون سی ہے جس پر اگر مضبوط ہوجاویں اور اس پر پورا عملدرآمد کریں تو قرآن کریم کے سارے احکام پر چلنے اور ساری منہیات سے بچنے کی توفیق مل جاتی ہے۔مگر میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کلید اور قوت دعا ہے۔دعا کو مضبوطی سے پکڑ لو۔میں یقین رکھتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ پھر اللہ تعالیٰ ساری مشکلات کو آسان کر دے گا۔لیکن مشکل یہ ہے کہ لوگ دعا کی حقیقت سے ناواقف ہیں اور وہ نہیں سمجھتے کہ دعاکیا چیز ہے؟ دعا یہی نہیں ہے کہ چند لفظ منہ سے بڑ بڑا لیے یہ تو کچھ بھی نہیں۔دعا اور دعوت کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کو اپنی مدد کے لیے پکارنا اور اس کا کمال اور مؤثر ہونا اس وقت ہوتا ہے جب انسان کمال دردِ دل اور قلق اور سوز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اس کو پکارے ایسا کہ اس کی روح پانی کی طرح گداز ہو کر