ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 332 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 332

ذریعہ ہم کو ملا ہے اس کی سچائی کی یہ زبردست علامت ہے کہ انسانی ضمیر اور فطرت جس قسم کا خدا چاہتی ہے قرآن کریم نے ویسا ہی خدا پیش کیا ہے یعنی اس قسم کے صفات سے متّصف اسے بیان کیا ہے۔لیکن چونکہ مقابلہ کے بغیر کسی کی خوبی اور عمدگی کا پتا نہیں لگ سکتا۔اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کسی قدر مقابلہ دوسرے مذاہب سے کیا جاوے۔اگرچہ ہمارا یہ مذہب ہے اور قرآن شریف سے ایسا ہی ثابت ہوتا ہے کہ کُل عالَم کا ایک ہی خدا ہے۔لیکن جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مثلاً ہندوؤں کا خدا تو اس سے یہ غرض ہوتی ہے کہ وہ خدا جو اپنے خیالات اور عقائد کے موافق ہندوؤں نے پیش کیا ہے یا عیسائی جس قسم کا تسلیم کرتے ہیں۔نعوذ باللہ یہ کبھی بھی خیال نہیں کرنا چاہیے کہ وہ کسی اور خدا کی مخلوق ہیں۔غرض جب ہم اس خدا کا مقابلہ ان خداؤں سے (جو دوسرے لوگوں نے پیش کیے ہیں) کرتے ہیں تو صاف طور پر اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ خدا جو قرآن شریف نے یا اسلام نے پیش کیا ہے وہی حقیقی خدا ہے۔مثلاً اسی مسئلہ عفو گناہ کے متعلق جب ہم غور کرتے ہیں تو جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے۔خواہ انسان کتنے ہی گناہ کرے لیکن جب سچے دل سے توبہ کرلے اور آئندہ کے لیے گناہوں سے باز آجاوے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا اور اس کے گناہ بخش دیتا ہے لیکن اس کے بالمقابل ہندوؤں نے جس خدا کو پیش کیا ہے وہ اس کے متعلق ہمیںیہ بتاتے ہیں کہ وہ ایسا خدا ہے کہ وہ ایک گناہ کے بدلے کروڑوں جُونوں میں ڈالتا ہے اور جوئیں، پسّو،مچھر، درند، چرند یہاں تک کہ پانی اور ہوا کے کیڑے یہ سب انسان ہی ہیں جو اپنی شامتِ اعمال کی وجہ سے سزائیں بھگتنے کے واسطے ان جونوں میں آئے ہوئے ہیں۔دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ جس قدر مخلوقات انسان کے سوا نظر آتی ہیں وہ سب انسان کے گناہوں کے طفیل ہے اور خدا تعالیٰ کو (معاذ اللہ) اب تک ان پر کوئی رحم نہیں آتا اور وہ ایسا سخت دل پرمیشر ہے کہ وہ رحم کر ہی نہیں سکتاجب یہ عقیدہ رکھا جائے گا کہ ہر ایک گناہ کی سزا میں ضرور کئی کروڑ جونوں میں جانا پڑے گا تو گناہ کی معافی اور رحم اور کرم پرمیشر میں کہاں پایا گیا؟ کیونکہ جونوں کے اس چکر سے تو کبھی نجات ہی نہیں ہے حالانکہ فطرتِ انسانی ایک ایسا خدا چاہتی ہے جو انسانی کمزوریوں پر رحم کرتا ہو اور انسان۔