ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 331 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 331

ہوجاتے ہیں۔انہیں خبر بھی نہیں ہوتی کہ خدا بھی کوئی ہے ہاں! اس وقت پتا لگتا ہے جب قابض ارواح آکر جان نکال لیتا ہے۔پس اس دھوکا سے خبردار رہو۔ایسا نہ ہو کہ مَرنے کا وقت آجاوے اور تم خالی کے خالی ہی رہو۔یہ شعر اچھا کہا ہے۔؎ مکن تکیہ بر عمر ناپائیدار مباش ایمن از بازیٔ روزگار یک دفعہ ہی پیامِ موت آجاتا ہے اور پتا نہیں لگتا۔انسانی ہستی بہت ہی ناپائیدار ہے۔ہزار ہامرضیں لگی ہوئی ہیں۔بعض ایسی ہیںکہ جب دامن گیر ہو جاتی ہیں تو اس جہان سے رخصت کر کے ہی رخصت ہوتی ہیں۔جبکہ حالت ایسی نازک اور خطرناک ہے تو ہر شخص کافرض ہے کہ وہ اپنے خالق اور مالک خدا سے صلح کرلے۔اسلام نے جو خدا پیش کیا ہے اور مسلمانوں نے جس خدا کو مانا ہے وہ رحیم، کریم، حلیم، توّاب اور غفار ہے۔جو شخص سچی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس کے گناہ بخش دیتا ہے۔لیکن دنیا میں خواہ حقیقی بھائی بھی ہو یا کوئی اور قریبی عزیز اور رشتہ دار ہو وہ جب ایک مرتبہ قصور دیکھ لیتا ہے پھر وہ اس سے خواہ باز بھی آجاوے مگر اسے عیبی ہی سمجھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کیسا کریم ہے کہ انسان ہزاروں عیب کر کے بھی رجوع کرتا ہے تو بخش دیتا ہے۔دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے بجز پیغمبروں کے (جو خدا تعالیٰ کے خُلق میں رنگے جاتے ہیں) جو چشم پوشی سے اس قدر کام لے بلکہ عام طور پر تو یہ حالت ہے جو سعدی نے کہا ہے۔ع خدا داند و بپوشد و ہمسایہ نداند و بخروشد پس غور کرو کہ اس کے کرم اور رحم کی کیسی عظیم الشان صفت ہے۔یہ بالکل سچ ہے کہ اگر وہ مؤاخذہ پر آئے تو سب کو تباہ کر دے۔لیکن اس کا کرم اور رحم بہت ہی وسیع ہے اور اس کے غضب پر سبقت رکھتا ہے۔اسلام اور دوسرے مذاہب میں خدا کا تصوّر یہ دین یعنی اسلام جو سچا مذہب ہے اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے