ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 326

ع پس از آنکہ من نہ مانم بچہ کار خواہی آمد کیا خدا تعالیٰ اس وقت نصرت کرے گا جب یہ نام مٹ جائے گا؟ ایک طرف حدیث میں یہ وعدہ کہ ہر صدی پر مجدّد آئے گا مگر اس وقت جو عین ضرورت کا وقت ہے کوئی مجدّد نہ آئے؟ تعجب ہے تم کیا کہہ رہے ہو! حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تو وہ زمانہ کہ اس میں متواتر نبی آتے رہے اور یہ اُمّت جو خیر الامّت کہلاتی ہے اور خاتم الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اُمّت ہے۔باوجود اُمّتِ مرحومہ کہلانے کے اس میں جب آئے تو دجّال آئے اور پھر ایک دو نہیں تیس دجّال۔گویا خدا کو خطرناک دشمنی ہے۔وہ اس کو ایسا تباہ کرنا چاہتا ہے کہ نام و نشان نہ رہے۔افسوس! میری مخالفت میں یہ لوگ ایسے اندھے ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حضور شوخی اور بے ادبی کرنے سے باز نہیں آتے۔اس کو عملی طور پر وعدوں کا قرار دیتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک شان کرتے ہیں۔وفاتِ مسیح علیہ السلام دیکھو! میں کھول کر کہتا ہوں کہ تم اپنے نفسوں پر رحم کرو۔اس پیغمبر کی شان میں جو افضل الرسل ہے یہ بے ادبی نہ کرو کہ حضرت مسیح کو اس سے افضل قرار دو۔کیا تم نہیںجانتے کہ آپؐکی وفات پر صحابہؓکی کیا حالت ہوئی تھی۔وہ دیوانہ وار پھرتے تھے۔آپؐکی زندگی ان کو ایسی عزیز تھی کہ حضرت عمرؓ نے تلوار کھینچ لی تھی کہ اگر کوئی آپ کو مُردہ کہے گا تو میں اس کا سر اڑا دوں گا۔اس شور پر حضرت ابوبکرؓ آئے اور انہوں نے آگے بڑھ کر آپؐکی پیشانی پر بوسہ دیا کہ آپؐپر خدا دو موتیں جمع نہ کرے گا اور پھر یہ آیت پڑھی مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (اٰلِ عـمران: ۱۴۵) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک رسول ہیں۔آپؐسے پہلے جس قدر رسول آئے ہیں سب وفات پاگئے ہیں۔صحابہؓ نے جب اس آیت کو سنا تو انہیں ایسا معلوم ہوا کہ گویا یہ آیت اب اتری ہے۔انہوں نے معلوم کیا کہ آپؐکے مقابلہ میں کوئی اور زندہ نہیں ہے۔تم میں وہ عشق اور محبت نہیں جو صحابہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی ورنہ تم یہ کبھی روانہ رکھتے کہ مسیح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل زندہ کہتے۔میں سچ کہتا ہوں کہ اگر صحابہؓ کے سامنے اس وقت کوئی کہتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو ان میں سے