ملفوظات (جلد 6) — Page 323
عالم الغیب خدا کے حضور قیامت کے دن کسی نبی کو جھوٹ بولنے کی جرأت کب ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔لیکن یہ عقیدہ جو میں نے ابھی بیان کیا ہے تسلیم کر لیا جاوے اور اس کو صحیح مانا جاوے تو پھر قرآن شریف چھوڑنا پڑے گا اور حضرت مسیح کو معاذ اللہ خدا تعالیٰ کے حضور قیامت کے دن جھوٹ بولنے والا قرار دینا پڑے گا کیونکہ اگر یہ سچ ہے کہ وہی مسیح اتر آئے گا تو پھر خدا تعالیٰ کے سامنے ان کا یہ جواب کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ صحیح نہیں کیونکہ ان کو تو اس وقت یہ کہنا چاہیے کہ چالیس سال تک آسمان سے اتر کر پھر زمین پر رہا اور میں نے جنگیں کیں، صلیبیں توڑیں اور شریروںکو مارا۔کفار کو مسلمان کیا حالانکہ ان کے جواب میں ان باتوں میں سے کسی کا کوئی اثر نہیں پایا جاتا۔پھر خدا کے واسطے سوچ کر جواب دو کیا تم یہ تجویز نہ کرو گے کہ حضرت مسیح نے معاذ اللہ جھوٹ بولا اور کیا یہ نبی کی شان ہے کہ خدا کے سامنے جھوٹ بولے؟ جو شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے اور قرآن پر حملہ کرتا ہے وہ بد ذات اور جہنمی ہے۔ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ملعون ہیں جو رسمی بات کے لیے قرآن شریف پر حملہ کرتے ہیں۔پس یہ آیت مسیح کی وفات اور ان کی دوبارہ آمد کے متعلق قول فیصل ہے۔اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ وفات پاچکےہیں اور وہ دوبارہ نازل نہیں ہوں گے اور قرآن شریف سچا اور حضرت مسیحؑکا جواب بھی سچا ہے۔ہاں یہ اَمر کہ آنے والے مسیح سے پھر کیا مراد ہے تو یاد رکھو کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا اور اپنی تائیدوں، نصرتوں اور نشانوں کے ساتھ اسے ثابت کیا وہ یہی ہے کہ آنے والا اسی امت کا ایک فرد کامل ہے اور خدا تعالیٰ کی کھلی کھلی وحی نے ظاہر کیا ہے کہ وہ آنے والا میں ہوںجو چاہے قبول کرے۔میرا یہ دعویٰ نرا دعویٰ نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ زبردست ثبوت ہیں جو ایک سلیم الفطرت اور متقی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔مامور کی صداقت ثابت کرنے کے تین ذرائع یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ جب کسی مامور کو بھیجتا ہے تو تین ذریعوں سے اس سچائی کو ثابت کرتا اور اتمامِ حجّت کرتا ہے۔اوّل۔نصوص کے ذریعہ یعنی پہلی شہادتوں سے اتمامِ حجّت کرتا ہے۔