ملفوظات (جلد 6) — Page 322
اب غور کا مقام ہے کہ اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ میں جو وعدہ تھا وہ اس آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ سے پورا ہوتا ہے۔ماسوا اس کے یہ آیت حضرت مسیحؑکی موت اور ان کی دوبارہ آمد کے متعلق ایک فیصلہ کن آیت ہے اور یہ اس قرآن کی آیت ہے جس کا حرف حرف محفوظ ہے اور جس کی حفاظت کا ذمہ دار خود اللہ تعالیٰ ہے جب کہ اس نے فرمایا ہے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(الـحجر:۱۰) افسوس مسلمانوں نے اس کتاب کی قدر نہیں کی!!! اس آیت میں مسیحؑنے اپنی بریت دو صورتوں سے کی ہے۔اوّل تو یہ کہ میری زندگی میں عیسائی نہیں بگڑے کیونکہ میں ان کو توحید کی تعلیم دیتا رہا۔دوم جب مجھے وفات دے دی مجھے کچھ خبر نہیں۔اب غور طلب اَمر یہ ہے کہ حضرت مسیح ابھی تک زندہ ہی ہیں تو صاحبو! پھر ان کے اس اقرار کے موافق یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ابھی تک عیسائی بگڑے بھی نہیں اور جو تعلیم وہ پیش کرتے ہیں وہ صحیح ہے حالانکہ یہ واقعات صحیح کے خلاف ہے۔عیسائی ضرور بگڑ چکے ہیں۔صاحبو! اگر مسلمانوں کے اس خیالی عقیدہ زندہ آسمان پر جانے کو لے کر اور اس آیت کے موافق عیسائی مسلمانوں پر اعتراض کریں کہ ہماری تعلیم تمہارے اقرار کے موافق بگڑی نہیں ہے تو کیا جواب ہو سکتا ہے؟ کیونکہ یہ اَمر تو حضرت مسیحؑکی زندگی سے وابستہ ہے اور زندگی تسلیم ہے تو پھر دوسری تعلیموں کے انکار کےلیے کیا عذر ہے!!! میں سچ کہتا ہوں کہ مسلمانوں کی خیر اسی میںہے کہ وہ قرآن شریف پر ایمان لاویں اور وہ یہی ہے کہ مسیحؑکی وفات پر ایمان لاویں۔دوسری بات جو اس آیت میں فیصلہ کی گئی ہے وہ ان کی دوبارہ آمد کا مسئلہ ہے۔مسلمانوں میں غلطی سے یہ عقیدہ مشہور ہوگیا ہے جس کی کوئی اصل نہیں کہ وہی مسیح ابن مریم دوبارہ آسمان سے نازل ہوں گے اور چالیس برس تک اس دنیا میں رہیں گے۔صلیبوں کو توڑیں گے اور کافروں سے جنگ کریں گے وغیرہ وغیرہ۔اب غور کا مقام ہے کہ ایک نبی صادق کی نسبت یہ عقیدہ رکھنا کہ اس نے جھوٹ بولا یہ تو بے ایمانی ہے۔ایک شخص اگر عدالت کے سامنے جھوٹ بولے تو وہ حلف دروغی کی سزا پاتا ہے۔پھر علیم و خبیر