ملفوظات (جلد 6) — Page 321
فترا ہے اس سے بچو۔عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا مسئلہ غرض قرآن شریف کی یہ آیت صاف طور پر مسیح کی وفات کا وعدہ دیتی ہے اور جس قدر وعدے اس آیت میں رَافِعُكَ اِلَيَّ سے شروع ہو کر آخر تک ہیں۔وہ ہمارے مخالف بھی مانتے ہیں کہ پورے ہو گئے حالانکہ وہ سب بعد وفات ہیں۔پھر وفات کا انکار کیوں کیا جاتا ہے۔علاوہ بریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مخبر صادق ہیں جو مسلمان کہلا کر بھی آپ پر ایمان نہیں لاتا اور آپؐکو مخبر صادق تسلیم نہیں کرتا وہ بڑی بد ذاتی کرتا ہے۔آپ نے تو فرمایا ہے کہ میں نے مسیح کو دوسرے آسمان پر یحییٰ کے پاس دیکھا ہے۔اب کیا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت ہے یا نہیں۔اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام در حقیقت وفات یافتہ نہ تھے بلکہ زندہ تھے تو پھر اس سوال کا کیا جواب ہے کہ ایک وفات یافتہ سے کیا تعلق ہے؟ ان کی تو روح بھی ابھی قبض نہیںہوئی تھی۔ادنیٰ فہم کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ مُردے کے پاس تو مُردہ ہی ہو سکتا ہے۔پھر یہ کیا ہوا کہ مُردہ کے پاس زندہ جا بیٹھا۔یہ صرف اپنی ہی غلطی ہے ورنہ سچ یہی ہے کہ حضرت مسیح بھی مَر کر ہی یحییٰ علیہ السلام کے پاس گئے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے قول سے یعنی قرآن شریف سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فعل یعنی رؤیت سے ثابت کر دیا۔جواس قول اور فعل کو نہیں مانتا اسے پھرمیں کیا کہوں۔ان دو گواہوں کے بعد اور کس گواہ کی حاجت ہے۔پھر یہاں تک ہی بات نہیں خود حضرت مسیحؑکا تو صاف اقرار بھی موجود ہے اور اس آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ (المآئدۃ:۱۱۸) سے تو اس سارے قضیہ کا فیصلہ ہی ہو جاتا ہے۔اس آیت سے پہلی آیتوں میں اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیحؑسے قیامت کے دن سوال کرے گا کہ کیا تُو نے کہا تھا کہ میری ماں کو اور مجھ کو خدا بنا لو۔حضرت عیسیٰ اپنی بریت میں عرض کریں گے کہ میری کیا مجال تھی جو میں ایسی تعلیم دیتا۔میں تو جب تک ان میں رہا ان کو تیری توحید ہی کی تعلیم دیتا رہا جو تو نے مجھے دی تھی لیکن جب تُو نے مجھ کو وفات دے دی پھر تو ان پر نگران تھا۔