ملفوظات (جلد 6) — Page 25
جو وہ اپنے پاک رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیےرکھتا ہے جوش میں لانے والا نہ تھا؟ اس کی غیرت نے جوش مارا اور مجھے مامور کیا۔اس وعدہ کے موافق جو اس نے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(الـحجر:۱۰) میں کیا تھا۔۱ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس قدر تقریر فرمائی تھی کہ عصر کی اذان ہو گئی اور نواب صاحب اور مشیر اعلیٰ صاحب خاموش ہو گئے۔حضرت نے فرمایا کہ اذان میں باتیں کرنی منع نہیں ہیں آپ اگر کچھ اور بات پو چھنا چاہتے ہیں تو پوچھ لیں کیونکہ بعض باتیں انسان کے دل میں ہوتی ہیں اور وہ کسی وجہ سے ان کو نہیں پوچھتا اور پھر رفتہ رفتہ وہ بُرا نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔جو شکوک پیدا ہوں ان کو فوراً باہر نکالنا چاہیے۔یہ بُری غذاکی طرح ہوتی ہیں اگر نکالی نہ جائیں تو سوءِ ہضمی ہو جاتی ہے۔جب یہ حضرت فرما چکے تو سلسلہ کلام حسب ذیل طریق پر شروع ہوا۔(ایڈیٹر) مشیر اعلیٰ۔میرے نز دیک اہم امور یہی تھے جو ان الفاظ کے متعلق میں نے پوچھے ہیں۔نواب صاحب۔حضرت کے اشتہار میں بھی یہی ہے اور زبانی بھی وہی ارشاد فرمایا ہے۔حضرت اقدس۔دراصل انسان کو بعض اوقات بڑے ہی مشکلات پیدا ہوتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے شاملِ حال نہ ہو تو وہ ان مشکلات میں پڑ کر ہدایت اور حقیقت کی راہ سے دور جا پڑتا ہے۔یہودیوں کو بھی اسی قسم کے مشکلات پیش آئے۔اُنہوں نے تورات میں بھی یہی پڑھا تھا کہ خاتم الانبیاء ان ہی میں ہوگا۔وہ ان ظاہر الفاظ پر جمے ہوئے تھے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تو ان کو آپ کے قبول کرنے میں بھی دقّت اور مشکل پیش آئی کہ خاتم الانبیاء تو ہم میں ہی سے ہو گا مگر ان کو یہی جواب ملا کہ تم نے جو کچھ سمجھاہے وہ غلط سمجھا ہے۔آنے والا خاتم الانبیاء بنی اسمٰعیل میں سے ہونے والا تھا اور وہ بھی تمہارے بھائی ہیں۔تم اس سوال پر مت جھگڑو بلکہ ضرورت اس اَمر