ملفوظات (جلد 6) — Page 24
ہے۔خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ اس فسق وفجور کی آگ سے ایک جماعت کو بچائے اور مخلص اور متقی گروہ میں شامل کرے۔یہ انقلاب عظیم الشان جو مسلمانوں کی اس حالت میں ہونے والا ہے اگر یہ انقلاب ہو اتو سمجھ لو کہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے ورنہ جھوٹاٹھہرے گا کیونکہ خدا تعالیٰ نے ایسا ہی ارادہ کیا ہے اور خدا تعالیٰ کے کام کو کوئی روک نہیں سکتا۔مسیح موعود جو نام رکھا ہے اور یَکْسِـرُ الصَّلِیْبَ اس کا کام مقرر فرمایا ہے۔یہ اس لیے ہے کہ عیسائیت کا زمانہ ہوگا اور عیسائیت نے اسلام کو بہت نقصان پہنچایا ہوگا۔چنانچہ اب دیکھ لو کہ تیس لاکھ کے قریب آدمی مُرتد ہو چکے ہیں۔اور پھر ان مرتدین میں شیخ، سید، مغل، پٹھان ہر قوم ہر طبقہ کے لوگ ہیں۔عورتیں بھی ہیں اور مرد بھی ہیں اور بچے بھی ہیں۔کوئی شہر نہیں جہاں ان کی چھائونی نہ ہو اور انہوں نے اپنا سکّہ نہ جمایا ہو۔یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے کہ حقیقی خدا کو چھوڑکر ایک بناوٹی اور مصنوعی خدابنایا جاوے اور اس کی پرستش ہو۔پھر یہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے سچے نبی اور افضل الرسل پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی گئیں آپ کی شانِ پاک میں ہر قسم کی گستاخیاں اور ہر زہ گوئیاں روارکھی گئیں جن کو سن کر بدن پر لرزہ پڑجاتا ہے اور کوئی نیک انسان ان کو سُن ہی نہیں سکتا۔جب ہم ان باتوںکو برداشت نہیں کرسکتے تو خدا تعالیٰ کی غیرت کب روارکھ سکتی ہے کہ یہ گالیاں اسی طرح پر دی جائیں اوراسلام کی دستگیری اور نصرت نہ ہو حالانکہ اس نے آپ وعدہ فرمایا تھا اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (الـحجر:۱۰) یہ کبھی نہیں ہوسکتا تھا کہ زمانہ کی یہ حالت ہو اور اللہ تعالیٰ باوجود اس وعدہ کے پھر خاموش رہے۔بے باک اور شوخ عیسائی قرآن شریف کی یہاں تک بے ادبی کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ استنجے کرتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قِسم قِسم کے افترا باندھتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں اور وہ لوگ ان میں زیادہ ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے گھروں میں جنم لیا اور مسلمانوں کے گھروں میں پرورش پائی اور پھر مُرتد ہو کر اسلام کی پاک تعلیم پر ٹھٹھا کرنا اپنا شیوہ بنا لیا ہے۔یہ حالت بیرونی طور پر اسلام کی ہو رہی ہے اور ہر طرف سے اس پر تیر اندازی ہو رہی ہے۔تو کیا یہ وقت خدا تعالیٰ کی غیرت کو