ملفوظات (جلد 6) — Page 320
شرح بنالو۔ہم بار بار تم سے پوچھیں گے کہ بخاری یا مسلم میں دکھاؤ کہ اس میں لکھا ہے کہ رَافِعُكَ اِلَی السَّمَآءِ الثَّانِیَۃِ پڑھا کرو۔دیکھو! ان باتوں پر غور کرو۔میرا یہ مدّعا نہیں کہ ہر ایک شخص محض اس وجہ سے کہ وہ میرے ساتھ عداوت رکھتا ہے اور تعصّب نے اس کے جوش کو بڑھا دیا ہے بے اختیار بول اٹھے۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا کہ میں محض خدا تعالیٰ کے لیے کہتا ہوں۔انسان کی جھوٹی منطق کبھی ختم نہیں ہوتی ہے۔اس لیے میں مقابلہ کرنے کے لیے نہیں آیا ہوں لیکن میں اپنے دل میں مخلوق کی ہمدردی اور بھلائی کے لیے ایک جوش رکھتا ہوں جو خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا ہے، اس لیے سچے دل سے کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے اپنے پاک کلمات سے مجھے خبر دی ہے۔مت سمجھو کہ میں بیہودہ طور پر کہتا ہوں بلکہ سچ مچ یہی بات ہے۔پس جلد بازی نہ کرو کہ جلدی صحیح نتیجہ پر پہنچنے سے روک دیتی ہے۔میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگ اپنے سینے اور دل کو تھام نہیں سکتے اور یہ مرض کثرت سے پھیل گیا ہے کہ مخالفت کی وجہ سے حق بات پر بھی غور نہیں کرتے اور یونہی کوئی بات سنی منہ پر جھاگ آجاتی ہے اور پھر جو زبان پر آتا ہے کہہ دیتے ہیں مگر یاد رکھو یہ اَمر تقویٰ کے خلاف ہے۔متقی کی زبان ڈرتی ہے کہ بغیر سوچے سمجھے کوئی بات منہ سے نکالے۔میرا معاملہ اگر سمجھ میں نہیں آتا تو طریق تقویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگو تاکہ وہ خود تم پر اصل حقیقت کھول دے۔خدا تعالیٰ کے کلام کی بے حرمتی نہ کرو ورنہ طریق نجات بھول جانے کا اندیشہ ہے۔آج وقت ہے بصیرت سے کام لو۔قرآن شریف قانونِ آسمانی اور نجات کا ذریعہ ہے اگر ہم اس میں تبدیلی کریں تو یہ بہت ہی سخت گناہ ہے۔تعجب ہوگا کہ ہم یہودیوں اور عیسائیوں پر بھی اعتراض کرتے ہیں اور پھر قرآن شریف کے لیے وہی روا رکھتے ہیں۔مجھے اور بھی افسوس اور تعجب آتا ہے کہ وہ عیسائی جن کی کتابیں فی الواقع محرف مبدل ہیں وہ تو کوشش کریں کہ تحریف ثابت نہ ہو اور ہم خود تحریف کرنے کی فکر!!! دیکھو افترا کرنے والا خبیث اور موذی ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کے کلام میں تحریف کرنا یہ بھی