ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 302

بے شک اپنی اپنی جگہ مبارک اور خوشی کے دن ہیں لیکن ایک دن ان سب سے بھی بڑھ کر مبارک اور خوشی کا دن ہے مگر افسوس سے دیکھا جاتا ہے کہ لوگ نہ تو اس دن کا انتظار کرتے ہیں اور نہ اس کی تلاش۔ورنہ اگر اس کی برکات اور خوبیوں سے لوگوں کو اطلاع ہوتی یا وہ اس کی پروا کرتے تو حقیقت میں وہ دن ان کے لیے بڑا ہی مبارک اور خوش قسمتی کا دن ثابت ہوتا اور لوگ اسے غنیمت سمجھتے۔وہ دن کون سا دن ہے جو جمعہ اور عیدین سے بھی بہتر اور مبارک دن ہے؟ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ دن انسان کی توبہ کا دن ہے جو ان سب سے بہتر ہے اور ہر عید سے بڑھ کر ہے۔کیوں؟ اس لیے کہ اس دن وہ بد اعمال نامہ جو انسان کو جہنم کے قریب کرتا جاتا ہے اور اندر ہی اندر غضبِ الٰہی کے نیچے اسے لارہا تھا دھو دیا جاتا ہے اور اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتےہیں۔حقیقت میں اس سے بڑھ کر انسان کے لیے اور کون سا خوشی اور عید کا دن ہوگا جو اسے ابدی جہنم اور ابدی غضبِ الٰہی سے نجات دے دے۔توبہ کرنے والا گنہگار جو پہلے اللہ تعالیٰ سے دور اور اس کے غضب کا نشانہ بنا ہوا تھا اب اس کے فضل سے اس کے قریب ہوتا اور جہنم اور عذاب اس سے دور کیا جاتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَ يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ(البقرۃ:۲۲۳) بےشک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوںکو دوست رکھتا ہے اور ان لوگوں سے جو پاکیزگی کے خواہاں ہیں پیار کرتا ہے۔اس آیت سے نہ صرف یہی پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے، بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی توبہ کے ساتھ حقیقی پاکیزگی اور طہارت شرط ہے۔ہرقسم کی نجاست اور گندگی سے الگ ہونا ضروری ہے۔ورنہ نری توبہ اور لفظ کے تکرار سے تو کچھ فائدہ نہیں ہے۔پس جو دن ایسا مبارک دن ہو کہ انسان اپنی بدکرتوتوں سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا عہد صلح باندھ لے اور اس کے احکام کے لیے اپنا سر خم کر دے تو کیا شک ہے کہ وہ اس عذاب سے جو پوشیدہ طور پر اس کے بد عملوں کی پاداش میں تیار ہو رہا تھا بچایا جاوے گا اور اس طرح وہ وہ چیز پالیتا ہے جس کی گویا اسے توقع اور امید ہی نہ رہی تھی۔تم خود قیاس کر سکتے ہو کہ ایک شخص جب کسی چیز کے حاصل کرنے سے بالکل مایوس ہوگیا ہو اور اس ناامیدی اور یاس کی حالت میں وہ اپنے مقصود کو پالے تو اسے کس قدر خوشی حاصل ہوگی۔