ملفوظات (جلد 6) — Page 303
اس کا دل ایک تازہ زندگی پائے گا۔یہی وجہ ہے کہ احادیث میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔احادیث اور کتب سابقہ سے یہی پتا لگتا ہے کہ جب انسان گناہ کی موت سے نکل کر توبہ کے ذریعہ نئی زندگی پاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی زندگی سے خوش ہوتا ہے۔حقیقت میں یہ خوشی کی بات تو ہے ہی کہ انسان گناہوں کے نیچے دبا ہو اور ہلاکت اور موت ہر طرف سے اس کے قریب ہو۔عذابِ الٰہی اس کے کھا جانے کو تیار ہو کہ وہ یکایک ان بدیوں اور بدکاریوں سے جو اس بُعد اور ہجر کا موجب تھیں توبہ کر کے خدا تعالیٰ کی طرف آجاوے وہ وقت خدا تعالیٰ کی خوشی کا ہوتا ہے اور آسمان پر ملائکہ بھی خوشی کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کا کوئی بندہ تباہ اور ہلاک ہو بلکہ وہ تو چاہتا ہے کہ اگر اس کے بندہ سے کوئی غلطی اور کمزوری ظاہر ہوئی ہے پھر بھی وہ توبہ کر کے امن میں داخل ہو۔پس یاد رکھو کہ وہ دن جب انسان اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے بہت مبارک دن ہے اور سب ایام سے افضل ہے۔کیونکہ وہ اس دن نئی زندگی پاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے قریب کیا جاتا ہے اور اسی لحاظ سے یہ دن (جس میں تم میں سے بہتوں نے اقرار کیا ہے کہ میں آج اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور آئندہ جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے گناہوں سے بچتا رہوں گا) یومِ توبہ ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے وعید کے موافق میں یقین رکھتا ہوں کہ ہر ایک شخص کے جس نے سچے دل سے توبہ کی ہے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے اور وہ اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ کے نیچے آگیا ہے۔گویا کہہ سکتے ہیں کہ اس نے کوئی گناہ نہیںکیا۔مگر ہاں میں پھر کہتا ہوں کہ اس کے لیے یہ شرط ہے کہ حقیقی پاکیزگی اور سچی طہارت کی طرف قدم بڑھایا جاوے اور یہ توبہ نری لفظی توبہ ہی نہ ہو بلکہ عمل کے نیچے آجاوے۔یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے کہ کسی کے گناہ بخش دیئے جاویں بلکہ ایک عظیم الشان اَمر ہے۔دیکھو! انسانوں میں اگر کوئی کسی کا ذرا سا قصور اور خطا کرے تو بعض اوقات اس کا کینہ پشتوں تک چلا جاتا ہے وہ شخص نسلاً بعد نسلٍ تلاشِ حریف میں رہتا ہے کہ موقع ملے تو بدلہ لیا جاوے لیکن اللہ تعالیٰ بہت ہی رحیم و کریم ہے۔انسان کی طرح سخت دل نہیں جو ایک گناہ کے بدلے میں کئی نسلوں تک پیچھا نہیں چھوڑتا اور تباہ کرنا چاہتا ہے مگر وہ رحیم کریم خدا ستّر برس کے گناہوں کو ایک کلمہ سے ایک لحظہ