ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 301

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع تھیں۔كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا (النّسآء : ۱۱۴) اسی کی طرف اشارہ ہے۔پس اگر آسمان پر جانا کوئی فضیلت ہوسکتی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کب باہر رہ سکتے تھے۔آخر یہ لوگ پچھتاویں گے کہ ان باتوں کو ہم نے کیوں نہ مانا۔یہ لوگ ایک وار تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کرتے ہیں کہ ایک معجزہ آسمان پر جانے کا لوگوں نے مانگا مگر خدا نے آپ کی پروا نہ کی اور عیسیٰ کو یہ عزّت دی کہ اسے آسمان پر اٹھا لیا اور دوسرا حملہ خود خدا پر کرتے ہیں کہ اس نے اپنی قوت خلق سے مسیح کو بھی کچھ دے دی جس سے تشابہ الخلق ہوگیا۔جواب دیتے ہیں کہ خدا نے خود مسیح کو یہ قدرت دی تھی۔اے نادانو!اگر خدائی نے تقسیم ہونا تھا تو کیا اس کے حصّہ گیر عیسیٰ ہی رہ گئے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں نہ حصّہ ملا۔۱ اس قدر تقریر ہوچکی تھی کہ بعض جان نثاروں نے بہت وقت گذر جانے کی درخواست کی تاکہ آپ کی طبیعت کو زیادہ صدمہ نہ ہو اور سلسلہ تقریر ختم ہو جاوے۔چنانچہ حضور نے دعا پر اسے ختم کیا۔۲۸؍اگست ۱۹۰۴ء (بمقام لاہور۔سات بجے صبح) (حضرت اقدس کی تقریر جو ڈیڑھ ہزار سے زیادہ مجمع کے درمیان آپ نے فرمائی) توبہ کا دن جمعہ اور عیدین سے بھی بہتر اور مبارک ہے سب صاحب یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں ایسے دن مقرر کئے ہیں کہ وہ دن بڑی خوشی کے دن سمجھے جاتے ہیں اور ان میں اللہ تعالیٰ نے عجیب عجیب برکات رکھی ہیں منجملہ ان دنوں کے ایک جمعہ کا دن ہے یہ دن بھی بڑا ہی مبارک ہے۔لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑکو جمعہ ہی کو پیدا کیا اور اسی دن ان کی توبہ منظور ہوئی تھی اور بھی بہت سی برکات اور خوبیاں اس دن کی ماثور ہیں۔ایسا ہی اسلام میں دو عیدیں ہیں۔ان دونوں دنوں کو بھی بڑی خوشی کے دن مانا گیا ہے اور ان میں بھی عجیب عجیب برکات رکھی ہیں۔لیکن یاد رکھو کہ یہ دن