ملفوظات (جلد 6) — Page 296
حفاظت کیا ہوئی۔حالانکہ اس کا وعدہ ہے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(الـحجر:۱۰) طاعون اور احمدی جب متعصب مولوی صاحب نے طاعون کا ذکر کیا کہ آپ کے مرید کیوں مَرتے ہیں اور اس کا علاج کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔تو آپ نے فرمایا کہ کسوف و خسوف کا علاج بھی کچھ سوچا ہے۔اس وقت بحث تو نشانوں کی ہے نہ کہ علاج کی۔ہاں جو کامل طور پر مجھ کو قبول کرتا ہے وہ ضرور محفوظ رہے گا لیکن اس کا مجھے علم نہیں کہ وہ کون ہے۔میں کسی کے سینہ کو چیر کر نہیں دیکھتا۔صحابہ کرامؓ کا بھی ایک گروہ طاعون سے شہید ہوا تھا۔مگر دیکھ لو کہ ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما طاعون سے ہرگز نہیں فوت ہوئے۔خدا تعالیٰ نے بھی اپنے بندوں میں امتیاز رکھا ہے۔جیسے کہ فرمایا ہے۔فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَيْرٰتِ (فاطر:۳۳) جماعت سے خطاب اس کے بعد آپ نے جماعت کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ ضروری بات یہ ہے کہ تم لوگ ان باتوں کی طرف متوجہ نہ ہو اور تقویٰ اور طہارت میں ترقی کرو۔تمہارا معاملہ اور حساب خدا سے الگ ہے اور مخالف لوگوں کا حساب الگ ہے۔جنہوں نے قسم کھائی ہے کہ کیسی ہی سچی بات کیوں نہ ہو مگر وہ قبول نہ کریں گے۔اللہ تعالیٰ بھی ان کی نسبت یہی فرماتا ہے کہ یہ لوگ قیامت کو ہی قبول کریں گے۔ان کی بناوٹ ہی اسی قسم کی ہے کہ عمدہ شَے یا بات جو پیش کی جاوے وہ ان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اگر بدبو دار بات ہو تو خوش ہوتے ہیں۔قرآن شریف، احادیث اور عقلی دلائل اور نشان پیش کئے مگر یہ لوگ ان کی پروا نہیں کرتے۔صرف ایک بات کو نشانہ بناتے ہیں۔پس جبکہ خدا نے نہ چاہا کہ ایک مذہب ہو تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔مگر جن لوگوں کو خدا نے فہمِ سلیم عطا کیا ہے ان کو چاہیے کہ وہ شکر کریں کیونکہ فائدہ اٹھانے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جن کو خدا نے خود پاک کیا۔نشاناتِ صداقت ابھی ہماری جماعت کے بہت سے لوگ چھپے ہوئے ہیں ظاہراً وہ ہم سے الگ ہیں لیکن دراصل ہم میں سے ہیں۔ہمیں خود ان کا علم نہیں لیکن