ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 295

مباحثہ کا دروازہ تو ہم بند کر چکے ہیں۔اب اس میں پڑنا پسند نہیں کرتے۔اس پر بعض مفسد طبائع نے شور کرنا شروع کیا۔آخر مصلحتِ وقت دیکھ کر مولوی صاحب کو بےجا مداخلت سے روکا گیا اور جب وہ باز نہ آئے تو ان کو جبراً احاطہ سے باہر کر دیا گیا۔اس اثنا میں جو کلام حضور علیہ السلام نے فرمایا اسے ہم یکجائی طور پر درج کرتے ہیں۔فرمایاکہ مسیح اور مہدی کی ضرورت شکوک کے رفع کے لیے اگر کوئی راستی اور سچی نیت سے آوے تو ہم اسے سمجھا سکتے ہیں اور اب تو زمانہ ایسا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ایک معلّم کی طرح سمجھا رہا ہے۔یہ اس کی عادت میں داخل ہے کہ جب دنیا میں گناہ اور بے ایمانی بڑھ جاوے اور ردّی اخلاق اور ردّی عادات ترقی پکڑ جاویں تو ایک شخص کو اصلاح کے لیے مامور کرے۔اسلام اس وقت دو آفتوں کے ماتحت ہے۔ایک اندرونی۔دوسری بیرونی۔اندرونی خود عالموں کا اختلاف اور مسلمانوں کا دنیا کی طرف میلان۔اور بیرونی وہ آفت جو عیسائیت کی وجہ سے ہے۔پس کیا ابھی تمہارے نزدیک مہدی اور مسیح کی ضرورت نہ تھی۔تیس دجّال پھر ایک اعتراض یہ پیش کرتے ہو کہ اس امت میں تیس۳۰ دجّال آنے والے ہیں۔اے بد قسمتو! کیا تمہارے لیے دجّال ہی رہ گئے کہ اگر ایک کے آنے سے ایمان کے تباہ ہونے میں کوئی کسر رہ جاوے تو پھر دوسرا، تیسرا اور چوتھا حتی کہ تیس۳۰ دجّال آویں تاکہ ایمان کا نام و نشان نہ رہے۔اس طرح تو موسیٰ علیہ السلام کی اُمّت ہی اچھی رہی کہ جس میں پے در پے چار سو نبی آیا۔پھر موسیٰ علیہ السلام کے وقت تو عورتوں سے بھی خدا نے کلام کیا۔کیا اُمّتِ محمدیہؐ کے مرد بھی اس قابل نہ ہوئے کہ خدا ان سے ہم کلام ہوتا۔پھر یہ بتلاؤ کہ یہ اُمّتِ مرحومہ کس طرح ہوئی اس کا نام تو بد نصیب ہونا چاہیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرہ سو برس گذر گئے اور جس قدر فیوض اور برکات تھے وہ سب سماع کے حکم میں آگئے۔اب اگر خدا ان کو تازہ کر کے نہ دکھائے تو صرف قصّہ کہانی کے رنگ میں ان کو کون مان سکتا ہے جبکہ تازہ طور پر خدا کی مدد نہیں، نصرت نہیں تو خدا کی