ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 20

کبھی خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل قدر نہیں ہے بلکہ وہ دیکھ لے گا کہ مَرنے کے بعد وہ امام اس سے بیزار ہوگا ایسا ہی جو لوگ حضرت علیؓ یا حضرت امام حسین ؓ کے درجہ کو بہت بڑھاتے ہیں گویا ان کی پرستش کرتے ہیں وہ امام حسین کے متبعین میں نہیں ہیں اور اس سے امام حسین ؓ خوش نہیں ہوسکتے انبیاء علیہم السلام ہمیشہ پیروی کے لیے نمونہ ہو کرآتے ہیں اور سچ یہ ہے کہ بِدُوں پیروی کچھ بھی نہیں۔میں ایک دم میں کیا سناؤں جو خیالات سالہاسال کے دل میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں وہ دفعۃً دور نہیں ہوسکتے۔ہاں اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرے تو وہ قادر ہے کہ فی الفور تبدیلی کر دے خدا تعالیٰ کی توفیق سے پرانے غلط خیالات کو چھوڑنا بہت ہی سہل ہو جاتا ہے۔دلائلِ صداقت مَیں سچ کہتا ہوں کہ میرا دعویٰ جھوٹا نہیں ہے خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے اور اس کی تائید میرے ساتھ ہے اگر میں اس کی طرف سے مامور نہ ہوا ہوتا تو وہ مجھے ہلاک کر دیتا اور میری ہلاکت ہی میرے کذب کی دلیل ٹھہر جاتی لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ میری تھوڑی مخالفت نہیں ہوئی ہر طرف سے ہر مذہب والے نے میری مخالفت میں حصّہ لیا اور بہت بڑا حصّہ لیا ہر قسم کے مشکلات اور روکیں میری راہ میں ڈالی جاتی ہیں اور ڈالی گئی ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے ان مشکلات سے صاف نکالا ہے اور ان روکوں کو دور کرکے وہ ایک جہان کو میری طرف لا رہا ہے اسی وعدہ کے موافق جو براہینِ احمدیہ میں کیا گیا تھا اس پر بھی میں کہتا ہوں کہ آپ دیکھیں کہ اگر ان مشکلات کے ہوتے ہوئے بھی میں کامیاب ہو گیا تو میری سچائی میں کیا شبہ باقی رہ سکتا ہے۔یہ بھی یادرکھیں کہ یہ مشکلات اور روکیں صرف میری ہی راہ میں نہیں ڈالی گئیں بلکہ شروع سے سنّت اللہ اسی طرح پر ہے کہ جب کوئی راست بازاور خدا تعالیٰ کا مامور ومرسل دنیا میں آتا ہے تو اس کی مخالفت کی جاتی ہے اس کی ہنسی کی جاتی ہے اسے قِسم قِسم کے دکھ دیئے جاتے ہیں مگر آخر وہ غالب آتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام روکوں کو خود اٹھا دیتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس قسم کے مشکلات پیش آئے۔ابنِ جریر نے ایک نہایت ہی دردناک واقعہ لکھا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا دعویٰ کیا تو ابوجہل اور چند اَور لوگ بھڑکے اور مخالفت کے واسطے اٹھے انہوں نے یہ تجویز کی کہ