ملفوظات (جلد 6) — Page 19
آدمی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو خدا تعالیٰ کے ماموروں اور راست بازوں کی سچی اتباع کرنے والے ہوتے ہیں۔اس طبقہ اور قسم کے لوگ تو بہت ہی کم ہوتے ہیں۔دوسری قسم انسانوں کی وہ ہے جو دنیا کی خواہشوں پر گرے ہوئے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے بکلّی دور اور مہجور ہوتے ہیں۔ان کی ساری اغراض ومقاصد کامنتہیٰ اورانجام دنیا پر ختم ہوجاتا ہے وہ کبھی خیال بھی نہیں کرتے کہ ان کو اس فانی دنیا سے ایک دن قطع تعلق کرنا ہوگا اور مَر کر یہ سب کچھ یہاںچھوڑجانا ہے اور پھر خدا تعالیٰ سے معاملہ ہوگا۔وہ دنیا اور اس کے دھندوں میں کچھ ایسے منہمک ہوتے ہیں کہ کچھ اور سوجھتا ہی نہیں۔یہ بہت ہی بد قسمت گروہ ہے اور اکثر حصّہ اسی میں مبتلا ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ انبیاء ورسل اور اَئمہ کے آنے سے کیا غرض ہوتی ہے وہ دنیا میں اس لیے نہیں آتے کہ ان کو اپنی پُوجا کرانی ہوتی ہے۔وہ تو ایک خدا کی عبادت قائم کرنا چاہتے ہیں اور اسی مطلب کے لیے آتے ہیں اور اس واسطے کہ لوگ ان کے کامل نمونہ پر عمل کریں اور ان جیسے بننے کی کوشش کریں اور ایسی اتباع کریں کہ گویا وہی ہو جائیں مگر افسوس ہے کہ بعض لوگ ان کے آنے کے اصل مقصد کوچھوڑدیتے ہیں اور ان کو خدا سمجھ لیتے ہیں۔اس سے وہ اَ ئمہ اور رسل خوش نہیں ہوسکتے کہ لوگ ان کی اس قدر عزّت کرتے ہیں۔کبھی نہیں۔وہ اس کو کوئی خوشی کا باعث قرار نہیں دیتے۔ان کی اصل خوشی اسی میں ہوتی ہے کہ لوگ ان کی اتباع کریں اور جو تعلیم وہ پیش کرتے ہیں کہ سچے خدا کی عبادت کرو اور توحید پر قائم ہوجائو،اس پر قائم ہوں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حکم ہوا قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (اٰل عـمران:۳۲) یعنی اے رسول ان کو کہہ دو کہ اگرتم اللہ تعالیٰ سے پیار کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔اس اتباع کا یہ نتیجہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تم سے پیار کرے گا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بننے کا طریق یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع کی جاوے پس اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ انبیاء علیہم السلام اور ایسا ہی اَور جو خدا تعالیٰ کے راست بازاور صادق بندے ہوتے ہیں وہ دنیا میں ایک نمونہ ہو کر آتے ہیں جو شخص اس نمونہ کے موافق چلنے کی کوشش نہیں کرتا لیکن ان کو سجدہ کرنے اور حاجت روا ماننے کو طیار ہو جاتا ہے وہ