ملفوظات (جلد 6) — Page 270
بڑا کریم ہے لیکن اس کی طرف آنے کے لیے عجز ضروری ہے۔جس قدر انانیت اور بڑائی کا خیال اس کے اندر ہوگا خواہ وہ علم کے لحاظ سے ہو، خواہ ریاست کے لحاظ سے، خواہ مال کے لحاظ سے، خواہ خاندان اور حسب نسب کے لحاظ سے تو اسی قدر پیچھے رہ جاوےگا۔اسی لیے بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ سادات میں سے اولیاء کم ہوئے ہیں کیونکہ خاندانی تکبّر کا خیال ان میں پیدا ہوجاتا ہے۔قرونِ اُولیٰ کے بعد جب یہ خیال پیدا ہوا تو یہ لوگ رہ گئے۔اس قسم کے حجاب انسان کو بے نصیب اور محروم کر دیتے ہیں بہت ہی کم ہیں جو ان سے نجات پاتے ہیں۔امارت اوردولت بھی ایک حجاب ہوتا ہے۔امیر آدمی کو کوئی غریب سے غریب اور ادنیٰ آدمی السلام علیکم کہے تو اسے مخاطب کرنا اور وعلیکم السلام کہنا اس کو عار معلوم ہوتا ہے اور خیال گذرتا ہے کہ یہ حقیر اور ذلیل آدمی کب اس قابل ہے کہ ہمیں مخاطب کرے۔اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ غریب امیروں سے پانصد سال پیشتر جنت میں جاویں گے۔ہمیں معلوم نہیں کہ اس حدیث کے معانی کیا ہیں لیکن ہم ان الفاظ پر ایمان لاتے ہیں۔اس کا ایک باعث یہ بھی ہے کہ غریبوں کا تزکیہ نفس قضا و قدر نے خود ہی کیا ہوتا ہے۔حصولِ فضل کی راہیں یاد رکھو کہ خدا کے فضل کے حاصل کرنے کے دو راہ ہیں۔ایک تو زہد نفس کشی اور مجاہدات کا ہے اور دوسرا قضا و قدر کا۔لیکن مجاہدات سے اس راہ کا طے کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ اس میں انسان کو اپنے ہاتھ سے اپنے بدن کو مجروح اور خستہ کرنا پڑتا ہے۔عام طبائع بہت کم اس پر قادر ہوتی ہیں کہ وہ دیدہ و دانستہ تکلیف جھیلیں لیکن قضاو قدر کی طرف سے جو واقعات اور حادثات انسان پر آکر پڑتے ہیں وہ ناگہانی ہوتےہیں اور جب آپڑتے ہیں تو قہر درویش برجان درویش ان کو برداشت کرنا ہی پڑتا ہے جو کہ اس کے تزکیہ نفس کا باعث ہوجاتا ہے جیسے شہداء کو دیکھو کہ جنگ کے بیچ میں لڑتے لڑتے جب مارے جاتےہیں تو خدا کے نزدیک کس قدر اجر کے مستحق ہوتے ہیں۔یہ درجاتِ قرب بھی ان کو قضا و قدر سے ہی ملتے ہیں۔ورنہ اگر تنہائی میں ان کو اپنی گردنیں کاٹنی پڑیں تو شاید بہت تھوڑے ایسے نکلیں جو شہید ہوں۔