ملفوظات (جلد 6) — Page 271
اسی لیے اللہ تعالیٰ غرباکو بشارت دیتا ہے وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ (البقرۃ :۱۵۶،۱۵۷) اس کا یہی مطلب ہے کہ قضا و قدر کی طرف سے ان کو ہر ایک قسم کے نقصان پہنچتےہیں اور پھر وہ جو صبر کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ کی عنائتیں اور رحمتیں ان کے شاملِ حال ہوتی ہیں کیونکہ تلخ زندگی کا حصّہ ان کو بہت ملتا ہے لیکن امراء کو یہ کہاں نصیب۔امیروں کا تو یہ حال ہے کہ پنکھا چل رہا ہے۔آرام سے بیٹھے ہیں۔خدمتگار چائے لایا ہے اگر اس میں ذرا سا قصور بھی ہے خواہ میٹھا ہی کم یا زیادہ ہے تو غصّہ سے بھر جاتےہیں۔خدمتگار کو ناراض ہوتے ہیں۔بہت غصّہ ہو تو مارنے لگ جاتے ہیں حالانکہ یہ مقام شکر کا ہے کہ ان کو ہل جوتنا نہیں پڑا۔کاشتکاری کے مصائب برداشت نہیں کیے۔چولہے کے آگے بیٹھ کر آگ کے سامنے تپش کی شدت برداشت نہیں کی اور پکی پکائی شَے محض خدا کے فضل سے سامنے آگئی ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ خدا کے احسانوں کو یاد کر کے رطب اللّسان ہوتے لیکن اس کےسارے احسانوں کو بھول کر ایک ذرا سی بات پر سار اکیا کرایا رائیگاں کر دیتے ہیں حالانکہ جیسے وہ خدمتگار انسان ہے اور اس سے غلطی اور بھول ہو سکتی ہے ویسے ہی وہ (امیر) بھی تو انسان ہے۔اگر اس خدمتگار کی جگہ خود یہ کام کرتا ہوتا تو کیا یہ غلطی نہ کرتا۔پھر اگر ماتحت آگے سے جواب دے تو اس کی اور شامت آتی ہے اور آقا کے دل میں رہ رہ کر جوش اٹھتا ہے کہ یہ ہمارے سامنے کیوں بولتا ہے اور اسی لیے وہ خدمتگار کی ذلّت کے در پے ہوتاہے۔حالانکہ اس کا حق ہے کہ وہ اپنی غلطی کی تلافی کے لیے زبان کشائی کرے۔اسی پر مجھے ایک بات یاد آئی ہے کہ سلطان محمود کی (یا ہارون الرشید کی) ایک کنیز تھی۔اس نے ایک دن بادشاہ کا بسترا جو کیا تو اسے گد گدا اور ملائم اور پھولوں کی خوشبو سے بسا ہوا پاکر اس کے دل میں آیا کہ میں بھی لیٹ کر دیکھوں تو سہی اس میں کیا آرام حاصل ہوتا ہے۔وہ لیٹی تو اسے نیند آگئی۔جب بادشاہ آیا تو اسے سوتا پاکر ناراض ہوا اور تازیانہ کی سزا دی۔وہ کنیز روتی بھی جاتی اور ہنستی بھی جاتی۔بادشاہ نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ روتی تو اس لیے ہوں کہ ضربوں سے درد ہوتی ہے اور ہنستی اس لیے ہوں کہ