ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 262

ہوں اور اس کی قضا و قدر پر اس سے زیادہ خوشی کے ساتھ جو قبولیت دعا میں ہوتی ہے راضی ہوجاتا ہوں، کیونکہ اس رضا بالقضا کے ثمرات اور برکات اس سے بہت زیادہ ہیں۔خدا تعالیٰ اعمالِ صالحہ کو چاہتا ہے اللہ تعالیٰ پوست کو پسند نہیں کرتا۔وہ تو روحانیت اور مغز کو قبول کرتا ہے۔اس لیے فرمایالَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى (الـحج:۳۸) اور دوسری جگہ فرمایا اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ(المآئدۃ:۲۸) حقیقت میں یہ بڑی نازک جگہ ہے۔یہاں پیغمبر زادگی بھی کام نہیں آسکتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بھی ایسا ہی فرمایا۔قرآن شریف میں بھی صاف الفاظ میں فرمایااِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ(الـحجرات:۱۴) یہودی بھی تو پیغمبر زادے ہیں۔کیا صدہا پیغمبر ان میںنہیں آئے تھے مگر اس پیغمبر زادگی نے ان کو کیا فائدہ پہنچایا۔اگر ان کے اعمال اچھے ہوتے تو وہ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ (البقرۃ:۶۲) کے مصداق کیوں ہوتے۔خدا تعالیٰ تو ایک پاک تبدیلی کو چاہتا ہے۔بعض اوقات انسان کو تکبّر نسب بھی نیکیوں سے محروم کر دیتا ہے اور وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں اسی سے نجات پالوں گا جو بالکل خیال خام ہے۔کبیر کہتا ہے کہ اچھا ہوا ہم نے چماروں کے گھر جنم لیا۔ع کبیر اچھا ہوا ہم نیچ بھلے سب کو کریں سلام خدا تعالیٰ وفاداری اور صدق کو پیار کرتا ہے اور اعمالِ صالحہ کو چاہتا ہے۔لاف و گزاف اسے راضی نہیں کر سکتے۔رفع عیسیٰ علیہ السلام فرمایا۔قرآن شریف تو رفع اختلاف کے لیے آیا ہے۔اگر ہمارے مخالف رَافِعُكَ اِلَيَّ کے یہ معنے کرتے ہیں کہ مسیح جسم سمیت آسمان پر چڑھ گیا تو وہ ہمیں یہ بتائیں کہ کیا یہود کی یہ غرض تھی؟ اور وہ یہ کہتے تھے کہ مسیح آسمان پر نہیں چڑھا؟ ان کا اعتراض تو یہ تھا کہ مسیح کا رفع اِلَی اللہ نہیں ہوا۔اگر رَافِعُكَ اِلَيَّ اس اعتراض کا جواب نہیں تو پھر