ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 259

۲۵؍جولائی ۱۹۰۴ء (بمقام گورداسپور) تعظیمِ قبلہ سوال ہوا کہ اگر قبلہ شریف کی طرف پاؤں کر کے سویا جاوے تو جائز ہےکہ نہیں؟ فرمایا کہ یہ ناجائز ہے کیونکہ تعظیم کے برخلاف ہے۔سائل نے عرض کی کہ احادیث میں اس کی ممانعت نہیں آئی۔فرمایا کہ یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔اگر کوئی شخص اسی بنا پر کہ حدیث میں ذکر نہیں ہے اور اس لیے قرآن شریف پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہوا کرے تو کیا یہ جائز ہو جاوے گا؟ ہرگز نہیں۔وَ مَنْ يُّعَظِّمْ شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ(الـحجّ:۳۳)۔سکھ مذہب اور عیسائیت شام کو بعد از نماز مغرب دو نوجوان اکاؤنٹنٹ جنرل آفس لاہور کے کلارک جن میں سے ایک صاحب مسلمان تھے اور ایک عیسائی۔حضرت کی ملاقات کے لیے تشریف لائے، چونکہ مسلمان صاحب کا تعارف جناب مفتی محمد صادق صاحب سپرنٹنڈنٹ تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے تھا۔اس لیے مفتی صاحب نے ان کو حضرت اقدس سے انٹروڈیوس کیا۔مختصر حالات کے استفسار کے بعد حضورؑ عیسائی نوجوان کی طرف متوجہ ہوئے۔معلوم ہوا کہ اوّل یہ سکھ مذہب کے تھے اور ان کے والدعیسائی تھے۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ آجکل اگر دنیا کے خدا گنے جاویں تو ایک ضمیمہ کتاب طیار ہوتی ہے، لیکن تعجب ہے کہ سکھ جیسے مذہب کو چھوڑ کر جس میں تو حید کی تعلیم ہے آپ نے عیسائی مذہب کو کیسے پسند کیا۔اس کے بعد متفرق طور پر مزاج پرسی وغیرہ ہوتی رہی۔اور بر وقت رخصت حضور نے فرمایا کہ ہمیں آپ کی ملاقات سے بہت خوشی ہوئی ہے۔افسوس ہے کہ قیام بہت تھوڑا ہے۔۱ ۲۶؍جولائی ۱۹۰۴ء (بمقام گورداسپور) ۱الحکم جلد ۸ نمبر ۲۵،۲۶ مورخہ ۳۱؍جولائی ،۱۰؍اگست ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۴