ملفوظات (جلد 6) — Page 252
۸؍جولائی ۱۹۰۴ء (احاطہ عدالت گورداسپور) دنیوی تکالیف اور مصائب کی تلافی فرمایا۔جن کو اللہ تعالیٰ دنیا میں تکالیف دیتا ہے اور جو لوگ خود خدا کے لیے دکھ اٹھاتے ہیں۔ان دونوں کو خدا تعالیٰ آخرت میں بدلہ دے گا۔دنیا تو چلنے کا مقام ہے رہنے کا نہیں۔اگر کوئی شخص سارے سامان خوشی کے رکھتا ہے تو خوشی کا مقام نہیں۔یہ سب آرام اور دکھ تو ختم ہونے والے ہیں اور اس کے بعد ایک ایسا جہان آنے والا ہے جو دائمی ہے۔جو لوگ اس مختصر جہاں میں انسانی بناوٹ میں فرق اور کمی بیشی دیکھ کر دوسرے جنم کے گناہوں اور عملوں پر محمول کر لیتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔وہ یہ معلوم نہیں کرتے کہ آخرت کا ایک بڑا جنم آنے والا ہے اور جن کو خدا تعالیٰ نے پیدائش میں کوئی نقص عطا کیا ہے اور جن لوگوں نے اپنے آپ کو خود بخود خدا کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے دکھوں میں ڈال دیا ہے ان دونوں کو وہاں چل کر اس کا بدلہ ملے گا۔یہ جہان تو تخمریزی کا جہان ہے اور ایسے موقع حاصل کرنے کے واسطے ہے جن سے خدا راضی ہو۔بعض لوگ اپنے عملوں سے خدا کو راضی کرتے اور بعض اپنے آپ کو تکالیف میں ڈال کر خدا کو راضی کرتے ہیں۔ایک شخص کے دو خدمتگار ہیں۔ایک کو وہ ایسے کام اور سفر پر روانہ کرتا ہے کہ جہاں اس کو سواری مل سکتی اور راستہ بھی سایہ دار اور ٹھنڈا ہے اور ہر طرح کا آرام ہے۔دوسرے خدمتگار کو ایسی طرف روانہ کرتا ہے جس راستہ میں نہ تو اس کو سواری مل سکتی ہے اور نہ سایہ ہے بلکہ پیدل چلنا اور سخت گرمی اور دھوپ اور لُو کا سامنا ہے۔مگر وہ جانتا ہے کہ جس کو جتنی تکلیف ہوگی اس کو اتنا ہی بدلہ اور عوضِ خدمت دوں گا۔پس پھر ان دونوں خدمتگاروں کو اپنے سفر پر کیا اعتراض ہے۔اسی طرح لنگڑے، اندھے، اپاہج، غریب، فقیر وغیرہ لوگ جو خدا تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں ان کو جب کہ اس آخری جہان میں چل کر بدلہ ملنا ہے تو کیا ضرورت ہے کہ ہم گونا گوں جنم مان لیں اور اس بڑے اور حقیقی جنم سے اعراض کریں۔جو دکھ اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں وہ تو ثواب حاصل کرنے کو دیئے ہیں۔