ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 245

بہت ہی نفیس اور ستھرا ہوتا ہے اور ایک خوبی ان میں یہ ہوتی ہے کہ ان کو بالکل ہاتھ سے نہیں چُھوا جاتا۔دودھ تک بھی بذریعہ مشین کے دوہا جاتا ہے۔اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔چونکہ نصاریٰ اس وقت ایک ایسی قوم ہوگئی ہے جس نے دین کی حدود اور اس کے حلال و حرام کی کوئی پروا نہیں رکھی اور کثرت سے سؤر کا گوشت ان میں استعمال ہوتا ہے اور جو ذبح کرتے ہیں اس پر بھی خدا کا نام ہرگز نہیں لیتے بلکہ جھٹکے کی طرح جانوروں کے سر جیسا کہ سنا گیا ہے علیحدہ کر دیئے جاتے ہیں۔اس لیے شبہ پڑ سکتا ہے کہ بسکٹ اور دودھ وغیرہ جو ان کے کارخانوں کے بنے ہوئے ہوں ان میں سؤر کی چربی اور سؤر کے دودھ کی آمیزش ہو۔اس لیے ہمارے نزدیک ولائتی بسکٹ اور اس قسم کے دودھ اور شوربے وغیرہ استعمال کرنے بالکل خلافِ تقویٰ اور ناجائز ہیں۔جس حالت میں کہ سؤر کے پالنے اور کھانے کا عام رواج ان لوگوں میں ولایت میں ہے تو ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں کہ دوسری اشیائے خوردنی جو کہ یہ لوگ تیار کر کے ارسال کرتے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی حصّہ اس کا نہ ہوتا ہو۔’’اس پر ابو سعید صاحب المعروف عرب صاحب تاجر برنج رنگون نے ایک واقعہ حضرت اقدس کی خدمت میں یوں عرض کیا کہ رنگون میں بسکٹ اور ڈبل روٹی بنانے کا ایک کارخانہ انگریزوں کا تھا۔وہ ایک مسلمان تاجر نے قریب ڈیڑھ لاکھ روپے کے خرید لیا۔جب اس نے حساب و کتاب کی کتابوں کو پڑتال کر کے دیکھا تو معلوم ہوا کہ سؤر کی چربی بھی اس کارخانہ میں خریدی جاتی رہی ہے۔دریافت پر کارخانہ والوں نے بتلایا کہ ہم اسے بسکٹ وغیرہ میں استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر یہ چیزیں لذیذ نہیں ہوتیں اور ولایت میں بھی یہ چربی ان چیزوں میں ڈالی جاتی ہے۔اس واقعہ کے سننے سے ناظرین کومعلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا خیال کس قدر تقویٰ اور باریک بینی پر تھا، لیکن چونکہ ہم میں سے بعض ایسے بھی تھے جن کو اکثر سفر کا اتفاق ہوا ہے اور بعض بھائی افریقہ وغیرہ دور دراز امصار و بِلاد میں اب تک موجود ہیں جن کو اس قسم کے دودھ اور بسکٹ وغیرہ کی ضرورت پیش آسکتی ہے، اس لیے ان کو بھی مدّ ِنظر رکھ کر دوبارہ اس مسئلہ کی نسبت دریافت کیا گیا اور نیز اہلِ ہنود کے کھانے کی نسبت عرض کیا گیا کہ یہ لوگ بھی اشیاء کو بہت غلیظ رکھتے ہیں اور ان کی کڑاہیوں کو اکثر کتّے