ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 242

تو اس پر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ خدا کے کلام میں یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ صرف بیعت کرنے والا ہی اس سے محفوظ رہے گا بلکہ اس نے ایک دفعہ مجھے مخاطب کر کے فرمایااَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ يَلْبِسُوْۤا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ یعنی بقدر دعویٰ کے ایمان میں کسی قسم کا ظلم نہ ہو۔خدا تعالیٰ کے ساتھ پوری وفا، پورا صدق اور اخلاص کا معاملہ ہو اور اس کی شناخت کامل ہو تو وہ شخص اس آیت کا مصداق ہو سکتا ہے۔لیکن یہ ایسی بات ہے کہ جس کو سوائے خدا کے اور کوئی نہیں جان سکتا کہ آیا فلاں شخص میں پورا صدق و اخلاص ہے کہ نہیں۔بعض وقت ایک انسان کے حق میں موت ہی اچھی ہوتی ہے کہ خدا اسے اس ذریعہ سے آئندہ لغزش سے بچا لیتا ہے۔(جیسے بعض کافروں کے حق میں زندگی اس لیے بہتر ہوتی ہے کہ ان کو آئندہ ایمان نصیب ہوجاتا ہے۔ایسے ہی بعض مومن کے حق میں موت اس لیے بہتر ہوتی ہے کہ اگر وہ زندہ رہتا تو کافر ہوجاتا) کہ اس کا خاتمہ کفر پر نہ ہو۔یہ طاعون اس قسم کی ہے جیسے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے عذاب کا وعدہ تھا لیکن پھر صحابہ کرامؓ نے بھی آخر اس سے حصّہ لیا اور اکثر شہید ہوئے۔کفر کا استیصال ان کی شہادت کا ثبوت ہے پس اسی طرح یہاں بھی استیصالِ کفر ہوگا۔صد حسین است در گریبانم ایک صاحب نے جو کہ بیعت شدہ ہیں عرض کی کہ بعض لوگ صرف اس لیے بیعت سے پرہیز کرتے ہیںکہ حضور نے حضرت حسینؓ سے بڑے ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔جیسے کہ یہ شعر مذکورہ بالا ہے ایک شخص نے مجھ پر بھی یہ اعتراض کیا مگر چونکہ مجھے اس کی حقیقت معلوم نہ تھی اس لیے میں ساکت ہوگیا۔فرمایا کہ اوّل انسان کو اطمینان قلب ہونا چاہیے کہ آیا جس کو میں نے قبول کیا ہے وہ راستباز ہے کہ نہیں۔مختصر کیفیت اس کی یہ ہے کہ جب انسان ایک دعویٰ کا مصدّق ہوتا ہے۔اور دعویٰ بھی ایسا ہو کہ اس کی بنا پر کوئی اعتراض نہ قائم ہوتا ہو تو اس قسم کے شکوک کا دروازہ خود ہی بند ہو جاتا ہے مثلاً میرا دعویٰ ہے کہ میں وہ مسیح ہوں جس کا وعدہ قرآن شریف اور حدیث میں دیا گیا ہے۔اب جب تک کوئی میرے اس دعویٰ کا مصدّق نہیں ہے تب تک اس کو حق ہے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ نیک آدمی کے مقابل پر بھی