ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 239

حکایت ایک صوفی کے دو مرید تھے ایک نے شراب پی اور نالی میں بیہوش ہو کر گرا۔دوسرے نے صوفی سے شکایت کی۔اس نے کہا تو بڑا بے ادب ہے کہ اس کی شکایت کرتا ہے اور جاکر اٹھا نہیں لاتا۔وہ اسی وقت گیا اور اسے اٹھا کر لے چلا۔کہتے تھے کہ ایک نے تو بہت شراب پی لیکن دوسرے نے کم پی کہ اسے اٹھا کر لے جارہا ہے۔صوفی کا مطلب یہ تھا کہ تو نے اپنے بھائی کی غیبت کیوں کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے غیبت کا حال پوچھا تو فرمایا کہ کسی کی سچی بات کا اس کی عدم موجودگی میں اس طرح سے بیان کرنا کہ اگر وہ موجود ہو تو اسے بُرا لگے غیبت ہے اور اگر وہ بات اس میں نہیں ہے اور تو بیان کرتا ہے تو اس کا نام بہتان ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا(الـحجرات:۱۳) اس میں غیبت کرنے کو ایک بھائی کے گوشت کھانے سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس آیت سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ جو آسمانی سلسلہ بنتا ہے ان میں عیب کرنے والے بھی ضرور ہوتے ہیں اور اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر یہ آیت بے کار جاتی ہے۔اگر مومنوں کو ایسا ہی مطہّر ہونا تھا اور ان سے کوئی بدی سر زد نہ ہوتی تو پھر اس آیت کی کیا ضرورت تھی؟ بات یہ ہے کہ ابھی جماعت کی ابتدائی حالت ہے۔بعض کمزور ہیں جیسے سخت بیماری سے کوئی اٹھتا ہے۔بعض میں کچھ طاقت آگئی ہے۔پس چاہیے کہ جسے کمزور پاوے اسے خفیہ نصیحت کرے۔اگر نہ مانے تو اسکے لیے دعا کرے اور اگر دونوں باتوں سے فائدہ نہ ہو تو قضا و قدر کا معاملہ سمجھے۔جب خدا نے ان کو قبول کیا ہوا ہے تو تم کو چاہیے کہ کسی کا عیب دیکھ کر سردست جوش نہ دکھلایا جاوے ممکن ہے کہ وہ درست ہو جاوے۔قطب اور ابدال سے بھی بعض وقت کوئی عیب سرزد ہوجاتا ہے بلکہ لکھا ہے کہ اَلْقُطُبُ قَدْ یَزْنِیْ کہ قطب سے بھی زنا ہو جاتا ہے۔بہت سے چور اور زانی آخر کار قطب اور ابدال بن گئے۔جلدی اور عجلت سے کسی کو ترک کر دینا ہمارا طریق نہیں ہے۔کسی کا بچہ خراب ہو تو اس کی اصلاح کے لیے وہ پوری کوشش کرتا ہے۔ایسےہی اپنے کسی بھائی کو ترک نہ کرنا چاہیے بلکہ اس کی اصلاح کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔قرآن کریم کی یہ تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ عیب دیکھ کر اسے پھیلاؤ اور دوسروں سے تذکرہ کرتے پھرو بلکہ وہ فرماتا ہے