ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 240

تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ(البلد:۱۸) کہ وہ صبر اور رحم سے نصیحت کرتے ہیں۔مرحـمہ یہی ہے کہ دوسرے کے عیب دیکھ کر اسے نصیحت کی جاوے اور اس کے لیے دعا بھی کی جاوے۔دعا میں بڑی تاثیر ہے اور وہ شخص بہت ہی قابلِ افسوس ہے کہ ایک کے عیب کو بیان تو سو مرتبہ کرتا ہے لیکن دعا ایک مرتبہ بھی نہیں کرتا۔عیب کسی کا اس وقت بیان کرنا چاہیے جب پہلے کم از کم چالیس دن اس کے لیے رو رو کر دعا کی ہو۔سعدی نے کہا ہے۔؎ خدا داند بپوشد ہمسایہ نداند و خروشد خدا تو جان کر پردہ پوشی کرتا ہے، مگر ہمسایہ کو علم نہیں ہوتا اور شور کرتا پھرتا ہے۔خدا کا نام ستّار ہے۔تمہیں چاہیے کہ تَـخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللہِ بنو۔ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ عیب کے حامی بنو بلکہ یہ کہ اشاعت اور غیبت نہ کرو کیونکہ کتاب اللہ میں جیسا آگیا ہے تو یہ گناہ ہے کہ اس کی اشاعت اور غیبت کی جاوے۔شیخ سعدیؒ کے دو شاگرد تھے۔ایک ان میں سے حقائق و معارف بیان کیا کرتا تھا اور دوسرا جلا بھنا کرتا تھا۔آخر پہلے نے سعدیؒ سے بیان کیا کہ جب میں کچھ بیان کرتا ہوں تو دوسرا جلتا ہے اور حسد کرتا ہے۔شیخ نے جواب دیا کہ ایک نے راہ دوزخ کی اختیار کی کہ حسد کیا اور تُو نے غیبت کی۔غرض یہ کہ سلسلہ چل نہیں سکتا جب تک رحم، دعا، ستّاری اور مرحمہ آپس میں نہ ہو۔۱ ۲۱؍جون ۱۹۰۴ء منکر وفاتِ مسیح سے قسم کن الفاظ میں لی جائے حضرتِ اقدس کے ایک مخلص حواری نے عرض کی کہ وزیر آباد میں ایک حافظ صاحب ہیں۔وہ اس بات پر آمادہ ہیں کہ وہ قسم کھا کر کہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام اسی جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ جو شخص دلیری کر کے شوخی کی راہ سے فتنہ ڈالتا ہے خدا اس سے خود سمجھ لیتا ہے۔اگر اس کو قسم کھانی ہے البدر جلد ۳ نمبر ۲۶ مورخہ ۸؍جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۴ نیز الحکم جلد ۸ نمبر ۲۳، ۲۴ مورخہ ۱۷،۲۴جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۹، ۱۰