ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 237

سچی بات یہ ہے کہ حق جب ظاہر ہو تو جو اسے خواہ نخواہ ردّ کرتا ہے اور دلائل، معقولات، منقولات اور خدا تعالیٰ کے نشانوں کو ٹالتا جاوے وہ کب متقی ہو سکتا ہے۔۱ متقی کو تو ترساں اور لرزاں ہونا چاہیے۔کیا دنیا میں ایسا ہوا ہے کہ چوبیس سال سے برابر ایک انسان رات کو منصوبہ بناتا ہے اور صبح کو خدا کی طرف لگا کر کہتا ہے کہ مجھے یہ وحی یا الہام ہوا اور خدا اس سے مؤاخذاہ نہیں کرتا۔اس طرح سے تو دنیا میں اندھیر پڑ جاوے اور مخلوق تباہ ہو جاوے۔متقی تو ایک ہی بات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور یہاں تو ہزاروں ہیں۔زمانہ الگ پکار رہا ہے۔احادیث مِنْکُمْ مِنْکُمْ کہہ رہی ہیں۔سورہ نور میں بھی مِنْکُمْ لکھا ہے۔قساوتِ قلبی اور بہائم کی طرح جو زندگی بسر ہو رہی ہے وہ الگ بتا رہی ہے۔صدی کے سر پر کہتے تھے کہ مجدّد آتا ہے۔اب ۲۲ سال بھی ہوچکے۔کسوف و خسوف بھی ہولیا۔طاعون بھی آگئی۔حج بھی بند ہوا۔ان سب باتوں کو دیکھ کر اگر اب بھی یہ لوگ نہیں مانتے تو ہم کیوںکر جانیں کہ ان میں تقویٰ ہے۔ہم نے بار بار کہا کہ آؤ اور جن باتوں کا تم کو سوال کرنے کا حق پہنچتا ہے وہ پوچھو۔ہاں یہ نہیں ہوگا کہ قرآن شریف تو کچھ کہے اور تم کچھ کہو اور ایسے اقوال پیش کرو جو اس کے مخالف ہوں۔مسیح کا نزولِ جسمانی آسمان سے مانتے ہیں حالانکہ وہ جب صحیح ہوسکتا ہے جبکہ صعود اوّل ہو۔قرآن مسیح کی وفات بیان کرتا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ چھت پھاڑ کر آسمان پر چلا گیا۔کیا تقویٰ اس بات کا نام ہے کہ یقین کو ترک کر کے توہمات کی اتباع کی جاوے۔سچے تقویٰ کا پتا قرآن سے ملتا ہے کہ دیکھ لیوے کہ تقویٰ والوں نے کیا کیا کام کیے۔دعا کے ذریعہ اپنے بھائیوں کی مدد کرو مذکورہ بالا تقریر کے بعد ایک صاحب نے عرض کی کہ حضور بعض احمدی بھائی ایسے ہیں نے بیعت کی ہوئی ہے اور اخلاص بھی رکھتے ہیں مگر بعض اقوال اور حرکات ان سے بیجا ظاہر ہوتی ہیں۔بعض ان میں سے احادیث کے قائل نہیں۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا۔اصل بات یہ ہے کہ سب لوگ ایک طبقہ کے نہیں ہوتے۔خدا تعالیٰ بھی قرآن شریف میں مومنوں البدر جلد ۳ نمبر ۲۲،۲۳ مورخہ ۸،۱۶؍ جون ۱۹۰۴ء صفحہ ۲ نیز الحکم جلد ۸ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۰