ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 236 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 236

ہرایک پہلو سے اختیار نہیں کرتا تب تک وہ متقی نہیں ہو سکتا اور اگر یہ بات نہیںتو ہم ایک کافر کو بھی متقی کہہ سکتے ہیں کیونکہ کوئی نہ کوئی پہلو تقویٰ کا (یعنی خوبی) اس کے اندر ضرور ہوگی۔اللہ تعالیٰ نے محض ظلمت تو کسی کو پیدا نہیں کیا۔مگر تقویٰ کی یہ مقدار اگر ایک کافر کے اندر ہو تو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔کافی مقدار ہونی چاہیے جس سے دل روشن ہو۔خدا راضی ہو اور ہر ایک بدی سے انسان بچ جاوے۔بہت سے ایسے مسلمان ہیں کہ جو کہتے ہیں کیا ہم روزہ نہیں رکھتے۔نماز نہیں پڑھتے وغیرہ وغیرہ۔مگر ان باتوں سے وہ متقی نہیں ہو سکتے۔تقویٰ اور شَے ہے۔جب تک انسان خدا کو مقدم نہیں رکھتا اور ہر ایک لحاظ کو خواہ برادری کا ہو خواہ قوم کا، خواہ دوستوں اور شہر کے رؤسا کا خدا سے ڈر کر نہیں توڑتا اور خدا کے لیے ہر ایک ذلّت برداشت کرنے کو طیار نہیں ہوتا تب تک وہ متقی نہیں ہے۔قرآن شریف میں جو بڑے بڑے وعدے متقیوں کے ساتھ ہیں وہ ایسے متقیوں کا ذکر ہے جنہوں نے تقویٰ کو وہاں تک نبھایا جہاں تک ان کی طاقت تھی۔بشریت کے قویٰ نے جہاں تک ان کا ساتھ دیا برابر تقویٰ پر قائم رہے حتی کہ ان کی طاقتیں ہار گئیں اور پھر خدا سے انہوں نے اور طاقت طلب کی جیسے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ (الفاتـحۃ:۵) سے ظاہر ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ یعنی اپنی طاقت تک تو ہم نے کام کیا اور کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ یعنی آگے چلنے کے لیے اور نئی طاقت تجھ سے طلب کرتے ہیں جیسے حافظ نے کہا ہے۔؎ ما بدان منزل عالی نتوانیم رسید ہان اگر لطفِ شما پیش نہد گامے چند پس خوب یاد رکھو کہ خدا کے نزدیک متقی ہونا اور شَے ہے اور انسانوں کے نزدیک متقی ہونا اور شَے۔مسیح علیہ السلام کے وقت جو مخالفوں کے جتھے وغیرہ بنتے تھے اس کا باعث بھی یہی تھا کہ جو عالِم لوگ یہود کے نزدیک مسلّم تھے اور متقی پرہیز گار تسلیم کئے جاتے تھے وہ مخالف تھے اگر وہ مخالف نہ ہوتے تو جتھے وغیرہ نہ بنتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی یہی حال تھا۔عُجب، بخل، ریا، نمود اور وجاہت کی پاسداری وغیرہ باتیں تھیں جنہوں نے حق کی قبولیت سے ان کو روکے رکھا۔غرضیکہ تقویٰ مشکل شَے ہے جسے اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے تو اس کے علامات بھی ساتھ ہی رکھ دیتا ہے۔