ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 235

اَنْفُسَكُمْ(النّجم:۳۳) اور فرماتا ہے هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى(النّجم:۳۳) اور فرماتا ہے اللہ تعالیٰ ہی عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(المآئدۃ:۸) ہے۔ہاں مامور مِنَ اللہ کے متّقی ہونے اور نہ ہونے کے نشانات بیّن ہوتے ہیں نہ اوروں کے۔بعد نماز مغرب مغرب کی نماز کے بعد جب حضرت امام علیہ السلام شہ نشین پر جلوہ افروز ہوئے تو سید احمد شاہ صاحب سندھی نے آپ سے نیاز حاصل کی اور پوچھا کہ متقی کسے کہہ سکتے ہیں۔فرمایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مبعوث ہوئے اور آپؐنے دعویٰ کیا تو اس وقت بھی لوگوں کی نظروں میں بہت سے یہودی عالم متقی اور پرہیز گار مشہور تھے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ خدا کے نزدیک بھی متقی ہوں۔خدا تعالیٰ تو ان متقیوں کا ذکر کرتا ہے جو اس کے نزدیک تقویٰ اور اخلاص رکھتے ہیں۔جب ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ سنا لوگوں میں جو ان کی وجاہت تھی اس میں فرق آتا دیکھ کر رعونت سے انکار کر دیا اور حق کو اختیار کرنا گوارا نہ کیا۔اب دیکھو کہ لوگوں کے نزدیک تو وہ بھی متقی تھے مگر ان کا نام حقیقی متقی نہیں تھا۔حقیقی متقی وہ شخص ہے کہ جس کی خواہ آبرو جائے ہزار ذلّت آتی ہو، جان جانے کا خطرہ ہو، فقر و فاقہ کی نوبت آئی ہو تو وہ محض اللہ تعالیٰ سے ڈر کر ان سب نقصانوں کو گوارا کرے لیکن حق کو ہرگز نہ چھپاوے۔متقی کے یہ معنے جیسے آجکل کے مولوی عدالتوں میں بیان کرتے ہیں ہرگز نہیں ہیں کہ جو شخص زبان سے سب مانتا ہو خواہ اس کا عمل در آمد اس پر ہو یا نہ ہو اور وہ جھوٹ بھی بول لیتا ہو، چوری بھی کرتا ہو تو وہ متقی ہے۔تقویٰ کے بھی مراتب ہوتے ہیں اور جب تک کہ یہ کامل نہ ہوں تب تک انسان پورا متقی نہیں ہوتا۔ہر ایک شَے وہی کار آمد ہوتی ہے جس کا پورا وزن لیا جاوے۔اگر ایک شخص کو بھوک اور پیاس لگی ہے تو روٹی کا ایک بھورا اور پانی کا ایک قطرہ لے لینے سے اسے سیری حاصل نہ ہوگی اور نہ جان کو بچا سکے گا جب تک پوری خوراک کھانے اور پینے کی اسے نہ ملے۔یہی حال تقویٰ کا ہے کہ جب تک انسان اسے پورے طور پر