ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 229

کی نسبت جو کچھ لکھا گیا ہے اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ذمہ دوسرا نکاح حضور نے فرض کر دیا ہے۔آپؑنے فرمایا کہ ہمیں جو کچھ خدا تعالیٰ سے معلوم ہوا ہے وہ بِلا کسی رعایت کے بیان کرتے ہیں۔قرآن شریف کا منشا زیادہ بیویوں کی اجازت سے یہ ہے کہ تم کو اپنے نفوس کو تقویٰ پر قائم رکھنے اور دوسرے اغراض مِثل اولاد صالحہ کے حاصل کرنے اور خویش و اقارب کی نگہداشت اور ان کے حقوق کی بجا آوری سے ثواب حاصل ہواور اپنی اغراض کے لحاظ سے اختیار دیا گیا ہے کہ ایک دو تین چار عورتوں تک نکاح کر لو لیکن اگر ان میں عدل نہ کر سکو تو پھر یہ فسق ہوگا۔اور بجائے ثواب کے عذاب حاصل کرو گے کہ ایک گناہ سے نفرت کی وجہ سے دوسرے گناہوں پر آمادہ ہوئے۔دل دکھانا بڑا گناہ ہے اور لڑکیوں کے تعلقات بہت نازک ہوتے ہیں جب والدین ان کو اپنے سے جدا اور دوسرے کے حوالہ کرتےہیں تو خیال کرو کہ کیا امیدیں ان کے دلوں میں ہوتی ہیں اور جن کا اندازہ انسان عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (النّسآء:۲۰) کے حکم سے ہی کر سکتا ہے۔اگر انسان کا سلوک اپنی بیوی سے عمدہ ہو اور اسے ضرورتِ شرعی پیداہوجاوے تو اس کی بیوی اس کے دوسرے نکاحوں سے ناراض نہیں ہوتی۔ہم نے اپنے گھر میں کئی دفعہ دیکھا ہے کہ وہ ہمارے نکاح والی پیشگوئی کے پورا ہونے کے لیے رو رو کر دعائیں کرتی ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ بیویوں کی ناراضگی کا بڑا باعث خاوند کی نفسانیت ہوا کرتی ہے اور اگر ان کو اس بات کا علم ہو کہ ہمارا خاوند صحیح اغراض اور تقویٰ کے اصول پر دوسری بیوی کرنا چاہتا ہے تو پھر وہ کبھی ناراض نہیں ہوتیں۔فساد کی بنا تقویٰ کی خلاف ورزی ہوا کرتی ہے۔خدا کے قانون کو اس کے منشا کے بر خلاف ہرگز نہ برتنا چاہیے اور نہ اس سے ایسا فائدہ اٹھانا چاہیے جس سے وہ صرف نفسانی جذبات کی ایک سِپَر بن جاوے۔یاد رکھو کہ ایسا کرنا معصیّت ہے۔خدا تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ شہوات کا تم پر غلبہ نہ ہو بلکہ تمہاری غرض ہر ایک اَمر میں تقویٰ ہو۔اگر شریعت کو سِپَر بنا کر شہوات کی اتباع کے لیے بیویاں کی جاویں گی تو سوائے اس کے اور کیا نتیجہ ہوگا کہ دوسری قومیں اعتراض کریں کہ مسلمانوں کو بیویاںکرنے کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں۔زنا کا نام ہی