ملفوظات (جلد 6) — Page 220
يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا (الطلاق:۳) یعنی جو اللہ تعالیٰ کے لیے تقویٰ اختیار کرتا ہے تو ہر مشکل سے اللہ تعالیٰ اس کو رہائی دے دیتا ہے لوگوں نے تقویٰ کے چھوڑنے کے لیے طرح طرح کے بہانے بنا رکھے ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ جھوٹ بولے بغیر ہمارے کاروبار نہیں چل سکتے اور دوسرے لوگوں پر الزام لگاتے ہیں کہ اگر سچ کہا جائے تو وہ لوگ ہم پر اعتبار نہیں کرتے۔پھر بعض لوگ ایسے ہیں جوکہتے ہیںکہ سُود لینے کے بغیر ہمارا گذارہ نہیں ہو سکتا۔ایسے لوگ کیوںکر متقی کہلا سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ تو وعدہ کرتا ہے کہ میں متقی کو ہر ایک مشکل سے نکالوں گا اور ایسے طور سے رزق دوں گا جو گمان اور وہم میں بھی نہ آسکے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے جو لوگ ہماری کتاب پر عمل کریں گے ان کو ہر طرف سے اوپر سے اور نیچے سے رزق دوں گا۔پھر فرمایا ہے کہ وَ فِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ (الذّٰ رِیٰت:۲۳) جس کا مطلب یہی ہے کہ رزق تمہارا تمہاری اپنی محنتوں اور کوششوں اور منصوبوں سے وابستہ نہیں۔وہ اس سے بالاتر ہے۔یہ لوگ ان وعدوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور تقویٰ اختیار نہیں کرتے۔جو شخص تقویٰ اختیار نہیں کرتا وہ معاصی میں غرق رہتا ہے اور بہت ساری رکاوٹیں اس کی راہ میں حائل ہوجاتی ہیں۔لکھا ہے کہ ایک ولی اللہ کسی شہر میں رہتے تھے انکی ہمسائگت میں ایک دنیا دار بھی رہتا تھا۔ولی ہر روز تہجد پڑھا کرتا تھا۔ایک دفعہ دنیا دار کےدل میںخیال آیا کہ یہ شخص جو ہر روز تہجد پڑھا کرتا ہے میں بھی تہجد پڑھوں۔غرض یہی ارادہ مصمّم کر کے وہ ایک رات اٹھا اور تہجد کی نماز پڑھی۔اس کو تہجد پڑھنے سے اس قدر تکلیف ہوئی کہ کمر میں درد شروع ہوگیا۔اس ولی اللہ کو خبر ملی کہ رات ان کے دنیا دار ہمسایہ نے تہجد کی نماز پڑھی تھی تو اس کے سبب سے اس کے کمر درد ہونے لگا ہے۔وہ عیادت کے لیے آیا اور اس سے حال پوچھا۔دنیا دار نے کہا کہ میں آپ کو دیکھا کرتا تھا کہ آپ ہر رات تہجد پڑھتے ہیں۔میرے خیال میں بھی آیا کہ میں بھی تہجد پڑھوں سو آج رات میں تہجد پڑھنے اٹھا اور یہ مصیبت مجھ پر آگئی۔اس نے جواب میں کہا کہ تجھے اس فضول سے کیا؟ پہلے چاہیے تھا کہ تو اپنے آپ کو صاف کرتا اور پھر تہجد کا ارادہ کرتا۔اللہ تعالیٰ کی اجابت بھی متقین کے لیے ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ(المآئدۃ:۲۸) درحقیقت جب تک انسان تقویٰ اختیار نہ کرے اس وقت