ملفوظات (جلد 6) — Page 221
تک اللہ تعالیٰ اس کی طرف رجوع نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ کی ذات میں بے نظیر صفات ہیں جو لوگ اس کی راہ پر چلتے ہیں۔انہیں کو اس سے اطلاع ملتی ہے اور وہی اس سے مزہ پاتے ہیں۔خدا سے رشتہ میں اس قدر شیرینی اور لذّت ہوتی ہے کہ کوئی پھل ایسا شیریں نہیںہوتا۔خدا تعالیٰ سے جلدی کوئی شخص خبر گیراں نہیں ہوسکتا۔پھر جس کا خدا متولّی ہوجاتا ہے اس کو کئی فائدے ہوتےہیں۔ایک تو وہ طمانیت کی زندگی میں داخل ہوجاتا ہے اور وہ راحت پاتا ہے جو کسی دنیا دار کو نصیب ہونا ناممکن ہے اور ایسی لذّت پاتا ہے جو کہیں دوسری جگہ نصیب نہیں ہوسکتی اور اس کا متولّی ایسا زبردست ثابت ہوتا ہے کہ ہرایک مشکل سے بہت جلدی نکالتا اور خبر گیری کرتا ہے۔یہ لوگ بالکل بے ہودہ جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں۔جھوٹی باتوں کی پیروی کرتے ہیں۔نماز اگر پڑھتے ہیں تو ریا کے لیے پڑھتے ہیں وہ نماز جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھلائی تھی وہ نہیں پڑھتے۔یہ وہ نماز ہے جس کے پڑھنے سے انسان ابدال میں داخل ہو جاتا ہے۔گناہ اس کےدور ہوجاتے ہیں۔دعائیں قبول ہوتی ہیں۔انسان خدا کا قرب حاصل کرلیتا ہے۔اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ (العنکبوت:۳) لوگ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ صرف منہ سے کہہ دینا کہ ہم ایمان لے آئے ہیں کافی ہے اور کوئی امتحانی مشکل پیش نہ آئے گی۔یہ بالکل غلط خیال ہے۔اللہ تعالیٰ مومن پر ابتلا بھیج کر امتحان کرتا ہے۔تمام راست بازوں سے خدا کی یہی سنّت ہے وہ مصائب اور شدائد میں ضرور ڈالے جاتے ہیں۔انقطاع اِلَی اللہ مصائب بھی دو قسم کے ہوتےہیں۔ایک تو وہ مصائب ہیں جو زیرِسایہ شریعت ہوتے ہیں۔انسان احکام کی تعمیل کے لیے انقطاع حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس طرف ہر ایک دنیاوی تعلق میں جو کشش ہے وہ اس کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔بیوی، بچے، دوست، دنیاداری کی رسوم کے تعلقات چاہتے ہیں کہ ہماری کشش اس پر ایسی ہو کہ وہ ہماری طرف کھنچا چلا آوے اور ہم میں ہی محو رہے۔تعمیل احکام کی کشش ان سے انقطاع کا تقاضا کرتی ہے۔ان سب کا چھوڑنا ایک موت کا سامنا ہوتا ہے۔۱البدر جلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۳تا۶