ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 217

پر راضی ہو تو جان بچ جائے گی ورنہ نہیں۔وہ تھانیدار کٹانے پر راضی نہ ہوا۔اس کے بعد تھوڑے ہی عرصہ میں وہ مَر گیا۔ہمارے بھی ایک دفعہ اسی طرح ناخن میں پنسل لگ گئی۔ہم سیر کرنے گئے تو دیکھا کہ ہمارے ہاتھ میں بھی وَرم ہونا شروع ہو گیا ہے تو ہمیں وہ قصہ یاد آگیا۔میں نے اسی جگہ سے دعا شروع کردی۔گھر پہنچنے تک برابر دعا ہی کرتا رہا تو دیکھتا کیا ہوں کہ جب میں گھر پہنچا تو وَرم کا نام و نشان تک بھی نہ تھا۔پھر میں نے لوگوں کو دکھایا اور سارا قصہ بیان کیا۔اسی طرح ایک دفعہ میرے دانت کو سخت درد شروع ہوگیا۔میں نے لوگوں سے ذکر کیا تو اکثر نے صلاح دی کہ اس کو نکلوا دینا بہتر ہے۔میں نے نکلوانا پسند نہ کیا اور دعا کی طرف رجوع کیا تو الہام ہوا وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ۔اس کے ساتھ ہی مرض کو بالکل آرام ہوگیا۔اس بات کو قریباً پندرہ سال ہوگئے ہیں۔خدا تعالیٰ صالحین کا متولّی ہوتا ہے اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے ایمان کے موافق اسباب سے نفرت ہوجاتی ہے۔جس قدر ایمان کامل ہوتا ہے اسی قدر اسباب سے نفرت ہوتی جاتی ہے۔حقیقت میں دیکھا گیا ہے کہ دنیا بڑے دھوکے میں پڑی ہوئی ہے۔جن باتوں کو اپنی ترقی کے ذرائع سمجھی بیٹھی ہے اصل میں وہی ذلّت کا موجب ہوتی ہیں۔دنیاوی عزّت بڑھانے اور عروج و مالداری حاصل کرنے کے لیے طرح طرح کے فریب و دجل اور دھوکے استعمال کرتے ہیں اور طرح طرح کی بے ایمانیوں سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔انہیں مکّاریوں کو اپنی مرادوں کا ذریعہ سمجھے ہوئے ہیں یہاں تک کہ بڑے فخر سے اپنی کامیابیوںکا دوستوں میں ذکر کرتے ہیں اور اپنی اولاد کو بھی یہی تعلیم کرتے ہیں لیکن اگر نظر انصاف اور معرفت سے دیکھا جاوے تو ان کے یہ طریق کوئی راحت نہیں بخشتے۔جب پوچھو تو شاکی اور نالاں ہی نظر آتے ہیں اور کبھی راحت اور طمانیت ان کے حال سے ظاہر نہیں ہوتی۔طمانیت کی رؤیت بجز فضلِ خدا کے نہیں ہوتی۔جب تک انسان اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان نہیں رکھتا اور اس کے وعدوں پر سچا یقین نہیں کرتا اور ہر ایک مقصود کا دینے والا اسی کو نہیں