ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 215

۳۱؍مئی ۱۹۰۴ء تقریر حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام بمقام گورداسپور۔بحاضری مولوی الٰہی بخش صاحب وغیرہ آمدہ از بنارس جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور آتا ہے تو لوگ عموماً اس کی طرف سے بے پروائی کرتے ہیں اور اکابر اور علماء تو خصوصیت سے اس کی طرف توجہ کرنا عیب سمجھتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ غنی ہے اور مرسل اور مامور چونکہ ایک خدمت پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے مقرر ہوتے ہیں وہ بھی بے پروا ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو دنیا کا محتاج نہیں سمجھتے بلکہ جیسے وہ ذاتِ الٰہی کا مظہر ہوتے ہیں ایسے ہی اسی ذات سے غنا کا حصّہ بھی لیتے ہیں۔ہر ایک شخص جو مامور بن کر دنیا میں خدا کی طرف سے آتا ہے اس کو ایک خاص قسم کی ہمّت اور حوصلہ عطا کیا جاتا ہے اور عزم میں ایک بے روک جزم اور استقلال عطا کیاجاتا ہے۔یہ لوگ بڑا حوصلہ رکھتے ہیں۔ہم اپنی طرف سے کسی پر اثر نہیں ڈال سکتے۔انسان تو ایک انسان پر اثر نہیں ڈال سکتا۔یہ محض اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ ہزارہا بلکہ لاکھوں آدمیوں کو کھینچے لیے آتا ہے۔یہاں کسی بناوٹ کی کوئی ضرورت نہیں۔چوبیس برس سے زیادہ ہوئے ہیں کہ خدا نے مجھے الہام کیا تھا کہ یَنْصُـرُکَ رِجَالٌ نُّوْحِیْ اِلَیْـھِمْ مِّنَ السَّمَآءِ۔یَأْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ۔یَأْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ۔وَلَا تُصَعِّرْ لِـخَلْقِ اللہِ وَلَا تَسْئَمْ مِّنَ النَّاسِ۔یعنی ہم لوگوں کے دل میں وحی کر دیں گے اور وہ تیری مدد کریں گے بڑے بڑے دور دراز راہوں سے تیرے پاس لوگ آئیں گے تم خلق کے ہجوم سے جو تیرے گرد جمع ہوگی تنگ مت آنا اور لوگوں سے تھکنا مت۔یہ ایسے وقت کی باتیں ہیں جب میں بالکل گمنام تھا اور کوئی آدمی میرے ساتھ نہ تھا۔میرے گاؤں سے باہر