ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 211

ع عشق و مشک را نتوان نہفتن جن لوگوں کو محبتِ الٰہی ہوتی ہے وہ اس محبت کو چھپاتے ہیں جس سے ان کے دل لبریز ہوتے ہیں بلکہ اس کے افشا پر وہ شرمندہ ہوتے ہیں کیونکہ محبت اور عشق ایک راز ہے جو خدا اور اس کے بندہ کے درمیان ہوتا ہے اور ہمیشہ راز کا فاش ہونا شرمندگی کا موجب ہوتا ہے۔کوئی رسول نہیں آیا جس کا راز خدا سے نہیں ہوتا۔اسی راز کو چھپانے کی خواہش اس کے اندر ہوتی ہے مگر معشوق خود اس کو فاش کرنے پر جبر کرتا ہے اور جس بات کو وہ نہیں چاہتے وہی ان کوملتی ہے جو چاہتے ہیں ان کو ملتا نہیں اور جو نہیں چاہتے ان کو جبراً ملتا ہے۔جب تک انسان ادنیٰ حالت میں ہوتا ہے اس کے خیالات بھی ادنیٰ ہی ہوتے ہیں اور جس قدر معرفت میں گرا ہوا ہوتا ہے اسی قدر محبت میں کمی ہوتی ہے۔معرفت سے حسنِ ظن پیدا ہوتا ہے۔ہرشخص میں محبت اپنے ظن کی نسبت سے ہوتی ہے۔اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ سے یہی تعلیم ملتی ہے۔صادق عاشق جو ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ پر حسنِ ظن رکھتا ہے کہ اس کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔خدا تو وفاداری کرنا پسند کرتا ہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ انسان صدق دکھلاوے اور اس پر ظن نیک رکھے کہ تا وہ بھی وفا دکھلائے مگر یہ لوگ کب اس حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں۔یہ تو اپنی ہوا و ہوس کے بتوں کے آگے جھکتے رہتے ہیں اور ان کی نظر دنیا تک ہی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کو کریم و رحیم نہیں سمجھتے۔اس کے وعدوں پر ذرّہ ایمان نہیں رکھتے۔اگر اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر ایمان رکھتے کہ وہ کریم و رحیم ہے تو وہ بھی ان پر رحمت اور وفا کے ثبوت نازل کرتا۔؎ گر وزیر از خدا بترسیدے ہمچناں کز ملک ملک بودے اللہ تعالیٰ سے بد ظنّی مت کرو شر بد ظنّی سے پیدا ہوتا ہے۔قرآن شریف کو اوّل سے آخر تک پڑھنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ سے بد ظنّی مت کرو۔اللہ کا ساتھ نہ چھوڑو۔اسی سے مدد مانگو۔اللہ تعالیٰ ہر میدان میں مومن کی مدد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں میدان میں تیرے ساتھ ہوں وہ اس کے لیے ایک فرقان پیدا کر دیتا ہے جو اس کے