ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 210

اس سے نکلو اور دین کا کام جو اس وقت سخت مصیبت کی حالت میں تھا اس کو سنوارو۔انبیاء کی طبیعت اسی طرح واقع ہوتی ہے کہ وہ شہرت کی خواہش نہیں کیا کرتے کسی نبی نے کبھی شہرت کی خواہش نہیں کی۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خلوت اور تنہائی کو ہی پسند کرتے تھے۔آپ عبادت کرنے کے لیے لوگوں سے دور تنہائی کی غار میں جو غارِ حرا تھی چلے جاتے تھے۔یہ غار اس قدر خوفناک تھی کہ کوئی انسان اس میں جانے کی جرأت نہ کر سکتا تھا لیکن آپ نے اس کو اس لیے پسند کیا ہوا تھا کہ وہاں کوئی ڈر کے مارے بھی نہ پہنچے گا۔آپ بالکل تنہائی چاہتے تھے۔شہرت کو ہرگز پسند نہیں کرتے تھے۔مگر خدا کا حکم ہوا يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ(المدّثر:۲،۳) اس حکم میں ایک جبر معلوم ہوتا ہے اور اسی لیے جبر سے حکم دیا گیا کہ آپ تنہائی کو جو آپ کو بہت پسند تھی اب چھوڑ دیں۔بعض لوگ بیوقوفی اور حماقت سے یہی خیال کرتے ہیں کہ گویا میں شہرت پسند ہوں۔میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ میں ہرگز شہرت پسند نہیں۔خدا نے جبر سے مجھ کو مامور کیا ہے میرا اس میں قصور کیا ہے اور وہی گواہ ہے کہ میں شہرت پسند نہیں ہوں۔میں تو دنیا سے ہزاروں کوسوں بھاگتا تھا۔حاسد لوگوں کی نظر چونکہ زمین اور اس کی اشیاء تک ہی محدود ہوتی ہے اور وہ دنیا کے کیڑے ہیں اور شہرت پسند ہوتے ہیں ان کو اس خلوت گزینی اور بےتعلقی کی کیفیت ہی معلوم نہیں ہو سکتی۔ہم تو دنیا کو نہیں چاہتے۔اگر وہ چاہیں اور اس پر قدرت رکھتے ہیں تو سب دنیا لے جائیں ہمیں ان پر کوئی گِلہ نہیں۔ہمارا ایمان تو ہمارے دل میں ہے نہ دنیا کے ساتھ۔ہماری خلوت کی ایک ساعت ایسی قیمتی ہے کہ ساری دنیا اس ایک ساعت پر قربان کرنا چاہیے۔اس طبیعت اور کیفیت کو سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔مگر ہم نے خدا کے اَمر پر جان و مال و آبرو کو قربان کر دیا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کسی کے دل میں تجلّی کرتا ہے تو پھر وہ پوشیدہ نہیں رہتا۔عاشق اپنے عشق کو خواہ کیسے ہی پوشیدہ کرے مگر بھید پانے والے اور تاڑنے والے قرائن اور آثار اور حالات سے پہچان ہی جاتے ہیں۔عاشق پر وحشت کی حالت نازل ہو جاتی ہے۔اداسی اس کےسارے وجود پر چھا جاتی ہے۔الگ قسم کے خیالات اور حالات اس کے ظاہر ہو جاتے ہیں۔وہ اگر ہزاروں پردوں میں چھپے اور اپنے آپ کو چھپا لے مگر چھپا نہیں رہتا۔سچ کہا ہے۔۱ (از ریویو ) البدر جلد ۳ نمبر ۳۲ مورخہ ۲۴؍ اگست ۱۹۰۴ء صفحہ ۳،۴