ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 209

اور جگہ سے آتا ہے تو شریعت نے حکم دیا ہے کہ وہ آکر السلام علیکم کہے۔نماز سے فارغ ہوتے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کے کہنے کی حقیقت یہی ہے کہ جب ایک شخص نے نماز کا عقد باندھا اور اللہ اکبر کہا تو وہ گویا اس عالَم سے نکل گیا اور ایک نئے جہان میں جا داخل ہوا۔گویا ایک مقامِ محویت میں جا پہنچا۔پھر جب وہاں سے واپس آیا تو السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ کر آن ملا۔لیکن صرف ظاہری صورت کافی نہیں ہوسکتی جب تک دل میں اس کا اثر نہ ہو چھلکوں سے کیا ہاتھ آسکتا ہے۔محض صورت کا ہونا کافی نہیں۔حال ہونا چاہیے۔علّتِ غائی حال ہی ہے۔مطلق قال اور صورت جس کے ساتھ حال نہیں ہوتا وہ تو الٹی ہلاکت کی راہیں ہیں۔انسان جب حال پیدا کرلیتا ہے اور اپنے حقیقی خالق و مالک سے ایسی سچی محبت اور اخلاص پیدا کر لیتا ہے کہ یہ بے اختیار اس کی طرف پرواز کرنے لگتا ہے اور ایک حقیقی محویت کا عالم اس پر طاری ہوجاتا ہے تو اس وقت اس کیفیت سے انسان گویا سلطان بن جاتا ہے اور ذرّہ ذرّہ اس کا خادم بن جاتا ہے۔مجھے تو اللہ تعالیٰ کی محبت نے ایسی محویت دی تھی کہ تمام دنیا سے الگ ہو بیٹھا تھا۔تمام چیزیں سوائے اس کے مجھے ہرگز بھاتی نہ تھیں۔میں ہرگز ہرگز حجرہ سے باہر قدم رکھنا نہیں چاہتا تھا۔میں نے ایک لمحہ کے لیے بھی شہرت کو پسند نہیں کیا۔میں بالکل تنہائی میں تھا اور تنہائی ہی مجھ کو بھاتی تھی۔شہرت اور جماعت کو جس نفرت سے میں دیکھتا تھا اس کو خدا ہی جانتا ہے۔میں تو طبعاً گمنامی کو چاہتا تھا اور یہی میری آرزو تھی خدا نے مجھ پر جبر کر کے اس سے مجھے باہر نکالا۔میری ہرگز مرضی نہ تھی مگر اس نے میری خلافِ مرضی کیا کیونکہ وہ ایک کام لینا چاہتا تھا۔اس کام کے لیے اس نے مجھے پسند کیا اور اپنے فضل سے مجھ کو اس عہدہ جلیلہ پر مامور فرمایا۔یہ اسی کا اپنا انتخاب اور کام ہے۔میرا اس میں کچھ دخل نہیں۔میں تو دیکھتا ہوں کہ میری طبیعت اس طرح واقع ہوئی ہے کہ شہرت اور جماعت سے کوسوں بھاگتی ہے اور مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگ کس طرح شہرت کی آرزو رکھتے ہیں۔میری طبیعت اور طرف جاتی تھی لیکن خدا مجھے اور طرف لے جاتا تھا۔میں نے بار بار دعائیں کیں کہ مجھے گوشہ میں ہی رہنے دیا جاوے۔مجھے میری خلوت کے حجرے میں ہی چھوڑ دیا جائے لیکن بار بار یہی حکم ہوا کہ