ملفوظات (جلد 6) — Page 208
اٹھے اور خیر خواہی کے لیے اضطراب پیدا ہو۔اور اس کی اعانت کے لیے بے چینی پیدا ہو۔خدا تعالیٰ کی محبت کے لیے جو اخلاص اور درد ہوتا ہے اور ثابت قدمی اس کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے، وہ انسان کو بشریت سے الگ کر کے الوہیت کے سایہ میں لا ڈالتا ہے۔جب تک اس کی حد تک درد اور عشق نہ پہنچ جائے کہ جس میں غیر اللہ سے محویت حاصل ہوجائے اس وقت تک انسان خطرات میں پڑا رہتا ہے۔ان خطرات کا استیصال بغیر اس اَمر کے مشکل ہوتا ہے کہ انسان غیر اللہ سے بکلّی منقطع ہو کر اسی کا ہوجائے اور اس کی رضا میں داخل ہونا بھی محال ہوتا ہے اور اس کی مخلوق کے لیے ایسا درد ہونا چاہیے جس طرح ایک نہایت ہی مہربان والدہ اپنے ناتواں پیارے بچے کےلیے دل میں سچا جوشِ محبت رکھتی ہے۔اللہ تعالیٰ سے تعلق کے لیے محویت کی ضرورت خدا تعالیٰ ایک تعلق چاہتا ہے اور اس کے حضور میں دعا کرنے کے لیے تعلق کی ضرورت ہے۔بغیر تعلق کے دعا نہیں ہوسکتی۔پہلے بزرگوں کی بھی اسی قسم کی باتیں چلی آئی ہیں کہ جن سے دعا کرنے والوں کو دعا کرانے سے پہلے تعلق ثابت کرنے کی تاکید کی۔خواہ نخواہ بازار میں چلتے ہوئے کسی بے تعلق کو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ تو میرا دوست ہے اور نہ ہی اس کے لیے دردِ دل ہی ہوتا ہے اور نہ ہی جوش دعا پیداہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے تعلق اس طرح نہیں ہوسکتا کہ انسان غفلت کاریوں میں مبتلا بھی رہے اور صرف منہ سے دم بھرتا رہے کہ میں نے خدا سے تعلق پیدا کر لیا ہے۔اکیلے بیعت کا اقرار اور سلسلہ میں نام لکھ لینا ہی خدا سے تعلق پر کوئی دلیل نہیں ہو سکتی۔اللہ تعالیٰ سے تعلق کے لیے ایک محویت کی ضرورت ہے۔ہم بار بار اپنی جماعت کو اس بات پر قائم ہونے کےلیے کہتے ہیں کیونکہ جب تک دنیا کی طرف سے انقطاع اور اس کی محبت دلوں سے ٹھنڈی ہو کر اللہ تعالیٰ کے لیے فطرتوں میں طبعی جوش اور محویت پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک ثبات میسر نہیں آسکتا۔بعض صوفیوں نے لکھا ہے کہ صحابہؓ جب نمازیں پڑھا کرتے تھے تو انہیں ایسی محویت ہوتی تھی کہ جب فارغ ہوتے تو ایک دوسرے کو پہچان بھی نہ سکتے تھے۔جب انسان کسی