ملفوظات (جلد 6) — Page 203
کے لیے کافی ہے۔اب کیا یہ میری بناوٹ ہے کہ ایک انسان آج سے چوبیس سال پہلے آجکل کے واقعات کا نقشہ کھینچ سکتا ہے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ ہزارہا مخلوق کا مرجع ہوگا خصوصاً جبکہ ایک مدّت تک ان امور کا ظہور نہ ہوا۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ امور کسی فراست کا نتیجہ نہیں ہو سکتے۔ان امور کو دیکھ کر میں کہہ سکتا ہوں کہ جس قدر نشانات خدا تعالیٰ نے میری تائید میں ظاہر کئے وہ اپنی تعداد اور شوکت میں ایسے ہیں کہ بجز حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کل انبیاء و مرسلین سے ایسے ثابت نہیں ہوئے لیکن اس میں میرا کیا فخر ہے یہ سب کچھ تو اس پاک نبی کی فضیلت ہے جس کی امت میں ہونے کا مجھے فخر حاصل ہے۔پھر میں کہتا ہوں کہ آج کل کے پیر زادوں اور سجادہ نشینوں کو آزما لو۔کسی پادری یا کسی مذہب کے سر گروہ کو میرے مقابل میں لاؤ۔خدا تعالیٰ نشان نمائی میں بالضرور اس کو میرے مقابل شرمندہ اور ذلیل کرے گا۔یہاں تو نشانوں کا دریا بہہ رہا ہے۔میرے دوست اس الہام سے خوب واقف ہیں جو دس بارہ سال ہوئے خدا تعالیٰ نے فرمایا اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ وَ اِنِّیْ مُعِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِعَانَتَکَ اس ایک الہام کو کس قدر مواقع اور محل پر میرے دوستوں نے پورے ہوتے دیکھا۔کس طرح لوگوں نے میری اہانت اور تذلیل کے لیے بیڑے اٹھائے اور کس طرح وہ خود ہی ذلیل اور خوار ہوگئے۔اس کی ایک مثال نہیں بلکہ کئی ایک مثالیں ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ ان نشانات کو دیکھ کر بھی لوگ ابھی گمراہ ہیں۔سو بات یہ ہے کہ دنیا میں ہمیشہ سے دو گروہ چلے آئے ہیں ایک سعید دوسرا شقی۔ابوجہل نے ہزاروں نشان دیکھے لیکن وہ کافر ہی رہا۔سو اس صورت میں مومن کے لیے ضرور ہے کہ وہ دعا میں لگ جاوے۔صرف بیعت پر قناعت نہ کریں آپ نے جو آج مجھ سے بیعت کی ہے۔یہ تخم ریزی کی طرح ہے۔چاہیے کہ آپ اکثر مجھ سے ملاقات کریں اور اس تعلق کو مضبوط کریں جو آج قائم ہوا ہے۔جس شاخ کا تعلق درخت سے نہیں رہتا وہ آخر کار خشک ہو کر گر جاتی ہے۔جو شخص زندہ ایمان رکھتا ہے وہ دنیا کی پروا نہیں رکھتا۔دنیا ہر طرح