ملفوظات (جلد 6) — Page 202
اسلام پر ہے کہ شرفا کی اولاد دشمنِ اسلام ہو کر گرجاؤں میں چلے گئے اور کھلے طور پر رسول اکرمؐ کی توہین ہو رہی ہے۔ہر ایک قسم کی گالی اور سبّ و شتم میں ان کو یاد کیا جاتا ہے۔ان تمام امور کو بہ ہیئت مجموعی اگر دیکھا جائے تو عقل کہتی ہے کہ یہی وقت خدا کی تائید کا ہے اور میں تم کو سچ کہتا ہوں کہ اگر یہ سلسلہ قائم نہ ہوتا تو اسلام برباد ہوچکا تھا۔سو خدا کے وجود کا یہ بھی ایک نشان ہے کہ عین ضرورت کے وقت خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا اور عین مصیبت کے وقت اسلام کو سنبھالا۔تائیدات سماوی بھی اگر دیکھی جاویں تو یہاں بھی ایک بڑا خزانہ ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہزار ہا نشان میرے ہاتھ پر ظاہر کئے۔اگر میں ان تمام نشانوں کو جمع کروں جو ہر روز مَیں اور میرے ساتھ رہنے والے دیکھتے ہیں تو ان کی تعداد لاکھ کے قریب ہوجاتی ہے۔قطع نظر اس کے صرف براہین احمدیہ کے بعض الہامات کو دیکھا جاوے چوبیس برس ہوئے کہ یہ کتاب تصنیف ہوئی جو اس وقت مکہ ، مدینہ، مصر، بخارا، لنڈن اور ایسا ہی ہندوستان کے ہر ایک حصّہ میں پہنچ گئی۔کئی ایک پادریوں اور دیگر مخالفینِ اسلام کے گھروں میں پہنچ گئی۔اب اس کتاب میں مثلاً لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے ارشاد ہے کہ اس وقت تو اکیلا ہے اور تیرے ساتھ کوئی نہیں لیکن ایک وقت آوے گا کہ لوگ تیرے پاس دور دور سے آویں گے۔(يَاْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ) تو لوگوں میں پہچانا جاوے گا اور تیری شہرت کی جاوے گی۔تیری امداد اور تائید کو دور دور سے لوگ آویں گے۔پھر کہا کہ لوگ کثرت سے آویں گے اور تو ان سے نرمی اور اخلاق سے پیش آنا۔ان کی ملاقات سے مت گھبرانا۔(وَلَاتُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللّٰهِ وَلَا تَسْئَمْ مِّنَ النَّاسِ) پھر آخر کار فرمایا اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ وَانْتَـھٰی اَمْرُ الزَّمَانِ اِلَیْنَا۔اَلَيْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ۔یعنی جب خدا کی فتح اور نصرت آوے گی اور زمانہ کا اَمر ہماری طرف منتہی ہوگا تو اس وقت کہا جاوے گا کہ کیا یہ سلسلہ حق نہیں؟ اب لاہور اور امرتسر کے لوگ اور ایسا ہی پنجاب کے لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ براہین کی اشاعت کے وقت مجھے کوئی جانتا نہیں تھا۔حتی کہ قادیان میں بہت کم لوگ ہوں گے جو مجھے پہچانتے ہوں گے۔پھر یہ اُمور کس طرح پورے ہو رہے ہیں۔اگرچہ یہ پیشگوئیاں بدرجہ اتم ابھی پوری نہیں ہوئیں لیکن جس قدر ان الہامات کا ظہور ہو رہا ہے وہ طالبِ حق